
آئی ایم ایف کی 186 صفحات پر مشتمل گورننس اینڈ کرپشن اسیسمنٹ رپورٹ نے پاکستان کے نظام کو آئینہ دکھا دیا:
- حکومت کی ہر سطح پر بدعنوانی سرایت کر چکی ہے
- عدلیہ سمیت اہم اداروں پر “قبضہ”، ججز اور عدالتی عملے کی دیانت داری پر سنگین سوالات
- فرسودہ قوانین، زیرِ التواء مقدمات، عدالتی فیصلوں میں تاخیر کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں مفلوج
- کرپشن سے حاصل دولت باہر منتقل، سرمایہ کاری اور روزگار ختم
- ٹیکس، کسٹمز، سرکاری کمپنیاں سیاسی مداخلت اور کرپشن کی وجہ سے خسارے میں
- احتسابی اداروں کی خودمختاری ختم، باہمی انتشار
رپورٹ میں براہِ راست کہا گیا ہے: “بدعنوانی پاکستان کے نظامِ حکمرانی کی مسلسل اور تباہ کن خصوصیت ہے، اس کا الزام تمام سابقہ حکومتوں اور آمروں پر یکساں عائد ہوتا ہے۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے پہلی بار اتنی کھل کر لکھا کہ “اداروں پر قبضہ” اور “عدم احتساب” ہی اصل بیماری ہے۔ یہ رپورٹ قرض کی شرط پر جاری کی گئی، مگر حکومت خاموش ہے، کوئی پریس کانفرنس تک نہیں کی گئی۔






