
اہم نکات (آئی ایم ایف رپورٹ 2025):
- وفاقی سطح پر 40 کھرب روپے اور صوبوں میں اس سے بھی زیادہ کے عوامی فنڈز ضائع/غبن ہونے کا شدید خطرہ
- اندرونی آڈٹ کا نظام تقریباً معدوم
- پی ایف ایم ایکٹ 2019 کے باوجود 6 سال گزرنے کے بعد بھی چیف انٹرنل آڈیٹرز کی تعیناتی نہیں
- آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) آئیناً خودمختار لیکن عملی طور پر فنانس ڈویژن کا غلام
- اے جی پی براہ راست پارلیمنٹ کو رپورٹ نہیں کرتا، فنانس ڈویژن سے بجٹ کی منظوری لیتا ہے
- 1500 آڈیٹرز کی کمی، بھرتیاں روک دی گئیں
- ہر سال 6,000+ آڈٹ رپورٹس بنتی ہیں لیکن 75% سفارشات پر پی اے سی نے کوئی کارروائی نہیں کی
- ایک رپورٹ 4,000 صفحات تک ہوتی ہے، پرانی سفارشات دہرائی جاتی رہتی ہیں
- کوئی فالو اپ سسٹم نہیں، کوئی جوابدہی نہیں
آئی ایم ایف کا براہ راست مطالبہ:
- آڈیٹر جنرل کو مکمل خودمختار ادارہ بنایا جائے
- اندرونی آڈٹ کو فوری فعال کیا جائے
- پی اے سی کو طاقتور بنایا جائے، عملدرآمد نہ کرنے پر سزا کا قانون ہو
- آڈٹ رپورٹس مختصر اور “ٹریفک لائٹ سسٹم” پر ہوں
نتیجہ: جب تک آڈٹ سسٹم درست نہیں ہوگا، کرپشن، خرد برد اور اربوں کھربوں کا ضیاع رکنے والا نہیں۔






