
دبئی (12 دسمبر 2025، صبح 9:50) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے 2026 ٹی20 ورلڈکپ کے ٹکٹوں کی فروخت کا اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹر جاری کیا، جو فوری طور پر پاکستانی شائقین کے غم و غصے کا باعث بن گیا۔ پوسٹر میں بھارتی کپتان روہت شرما، سری لنکن داسن شناکا، جنوبی افریقی ہینرک کلاسن، انگلش ہیری بروک اور آسٹریلوی ایشٹن ٹرنر کی تصاویر نمایاں طور پر شامل ہیں، مگر پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا کی تصویر ایک بار پھر غائب ہے۔ یہ عمل آئی سی سی کے بھارتی اثر و رسوخ (بی سی سی آئی کے چیئرمین جے شاہ کی زیر نگرانی) کی وجہ سے ہوا، جو گزشتہ سالوں میں بھی پاکستانی ٹیم کے خلاف تعصب کا مظہر دکھا چکا ہے۔
ٹکٹوں کی فروخت کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا جب ٹورنامنٹ کی میزبانی بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر کر رہے ہیں، اور پاکستان اپنے تمام میچز کولمبو میں کھیلے گا۔ پوسٹر کی اس غلطی نے پاکستانی شائقین کو شدید برہم کر دیا، جو سوشل میڈیا پر #ICCBias اور #SalmanAghaMissing جیسے ہیش ٹیگز کے ساتھ آئی سی سی پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔ ایک شائق نے لکھا کہ “یہ کرکٹ نہیں، بھارتی سیاست ہے، سلمان آغا پاکستان کا فخر ہیں اور آئی سی سی انہیں نظر انداز کر رہی ہے”، جبکہ دوسرے نے کہا کہ “روہت، شناکا، کلاسن سب ہیں مگر آغا کہاں؟ یہ تعصب ختم کرو!”۔
پاکستانی کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اب تک خاموشی اختیار کی ہے، مگر ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ آئی سی سی سے وضاحت مانگ رہا ہے۔ یہ واقعہ 2023 ورلڈکپ میں پاکستان کے میچز ہائی ہائپرڈ وینیوز پر کھیلنے جیسے پرانے تنازعات کی یاد دہانی کراتا ہے، جہاں بھارتی اثر کی وجہ سے پاکستانی شائقین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ٹکٹوں کی فروخت 13 دسمبر سے شروع ہو رہی ہے، مگر یہ پوسٹر تنازعہ ٹورنامنٹ کی توقعات پر پانی پھیر رہا ہے، خاص طور پر جب پاکستان گروپ اے میں بھارت کے ساتھ ہے اور ان کا میچ 15 فروری کو کولمبو میں ہوگا۔ شائقین کا مطالبہ ہے کہ آئی سی سی فوری طور پر پوسٹر درست کرے اور سلمان آغا کو ان کی جگہ دے۔






