ادارہ شماریات کا “مہنگائی کم” کا دعویٰ؛ عوام کی جیب پر چکن، انڈے، گھی، آٹا اور دودھ کا بوجھ بڑھ گیا

اسلام آباد (12 دسمبر 2025، شام 7:28) وفاقی ادارہ شماریات نے ہفتہ وار رپورٹ جاری کر کے دعویٰ کیا ہے کہ سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 3.90 فیصد پر آ گئی ہے، جو 4 فیصد سے کم ہے، مگر اس رپورٹ میں شامل اعداد و شمار عوام کی روزمرہ زندگی سے بالکل میل نہیں کھاتے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے میں 12 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں، 10 سستی اور 29 کی قیمتیں مستحکم رہیں، لیکن جو چیزیں عوام کی کچن کا بنیادی حصہ ہیں، ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جو عام آدمی کی جیب پر براہ راست بوجھ ڈال رہا ہے۔

چکن کی قیمتوں میں 6.01 فیصد، آٹے میں 2.88 فیصد، انڈوں میں 0.93 فیصد، کوکنگ آئل میں 0.72 فیصد، ویجیٹیبل گھی میں 0.70 فیصد، چائے پتی میں 0.56 فیصد، پاوڈر دودھ میں 0.39 فیصد اور دال مونگ میں 0.37 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو سردیوں میں گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ دوسری جانب ٹماٹر 16.18 فیصد، پیاز 4.08 فیصد، آلو 1.71 فیصد، چینی 4.91 فیصد اور کیلے 1.01 فیصد سستے ہوئے، مگر یہ سستی روزمرہ کی بنیادی اشیاء (چکن، آٹا، دودھ، گھی) کے اضافے کے سامنے کوئی ریلیف نہیں دے رہی۔

عوام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ادارہ شماریات کے اعداد و شمار بازار کی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے، جہاں دکاندار اور صارفین مسلسل مہنگائی کی شکایت کر رہے ہیں۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں آئی ہے جب سردیوں میں گیس کی قلت اور بجلی کے بلز پہلے ہی عوام کو پریشان کر رہے ہیں، اور اب کچن کی بنیادی اشیاء بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔