امریکا کی نئی ویزا پالیسی؛ موٹاپا اور ذیابیطس جیسے امراض والوں کا داخلہ روکنے کا فیصلہ

امریکی محکمہ خارجہ نے ایک نئی ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے، جس کے تحت ویزا افسران کو موٹاپے، ذیابیطس، قلب کی بیماریوں، کینسر، سانس کی بیماریوں، دماغی امراض، اور نفسیاتی مسائل جیسے عوارض پر مبتلا درخواست دہندگان کے ویزے مسترد کرنے کی پوری اجازت دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کا ہے، جو امیگریشن پالیسیوں کو مزید سخت بناتا ہے، اور درخواست دہندگان کو “پبلک چارج” (عوامی بوجھ) قرار دے کر ویزا روکنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ ہدایات امریکہ کے تمام سفارت خانوں کو بھیج دی گئی ہیں، اور اس میں موٹاپا کو ایسی حالت قرار دیا گیا ہے جو دمہ، بلڈ پریشر، اور دل کی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام صحت کے خطرات کو کم کرنے اور قومی مفاد کا تحفظ کرنے کے لیے ہے، مگر تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ امتیازی سلوک ہے، کیونکہ دنیا کی 40 فیصد آبادی موٹاپے اور 10 فیصد ذیابیطس کی شکار ہے، جو ویزا درخواست دہندگان کو غیر منصفانہ طور پر متاثر کرے گا۔ یہ پالیسی صرف امیگرنٹ ویزوں (گرین کارڈ) پر लागو ہوگی، نہ کہ سیاحتی یا عارضی ویزوں پر، اور افسران کو درخواست دہندگان کی فیملی کی صحت بھی دیکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ فی الحال اس کی نافذ العمل تاریخ واضح نہیں، مگر یہ ٹرمپ دور کی امیگریشن پالیسیوں کی نئی کڑی ہے۔