امریکہ ویزہ کی درخواست دہندگان کی 5 سالہ سوشل میڈیا جانچ؛ امریکہ/یہود مخالف مواد یا دہشت گردی کی ترویج پر ویزہ انکار

واشنگٹن (11 دسمبر 2025، صبح 11:05) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امیگریشن پالیسیوں کو مزید سخت کرنے کا نیا قدم اٹھا لیا ہے، جس کے تحت ویزہ کی درخواست دینے والے تمام افراد کی پچھلے 5 سالہ سوشل میڈیا سرگرمیوں کی تفصیلی جانچ پڑتال لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ کسٹم اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) نے فیڈرل رجسٹر میں نوٹس جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ USCIS افسران درخواست دہندگان کے فیس بک، ٹوئٹر (X)، انسٹاگرام، لنکڈ ان اور دیگر پلیٹ فارمز کی پوسٹس، لائکس، شیئرز اور کمنٹس کا جائزہ لیں گے، اور اگر کوئی امریکہ، یہودیوں مخالف، دہشت گردی کی ترویج یا “غلط معلومات” پھیلانے والی سرگرمی نظر آئی تو ویزہ فوری طور پر مسترد کر دیا جائے گا۔ یہ پالیسی نہ صرف نئے ویزہ (سیاحتی، طالب علم، کاروباری) بلکہ گرین کارڈ اور شہریت کی درخواستوں پر بھی लागو ہوگی، اور اطلاق کا وقت جلد اعلان کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ، امریکہ داخل ہونے والوں سے ان کے اہل خانہ کے ای میل ایڈریسز، فون نمبرز، سوشل میڈیا ہینڈلز اور دیگر ذاتی معلومات بھی لازمی پوچھی جائیں گی، جو درخواست دہندگان کو “ریڈ فلیگ” بنا سکتی ہیں۔ یہ اقدامات ٹرمپ کی “امریکہ فرسٹ” پالیسی کا حصہ ہیں، جو حالیہ نیشنل گارڈ حملے (افغان ملزم) کے بعد تیز ہوئے، اور پہلے سے جاری H-1B ویزہ کی سختیوں (لنکڈ ان پروفائل چیک، سنسرشپ میں ملوث افراد کو نااہل قرار) کی توسیع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی ہندوستان، چین اور پاکستان جیسے ممالک سے لاکھوں ہائی سکلڈ ورکرز کو متاثر کرے گی، جہاں ٹیک اور انجینئرنگ پروفیشنلز کی بڑی تعداد امریکی نوکریوں پر انحصار کرتی ہے، اور کمپنیاں جیسے گوگل، ایمازون اور مائیکروسافٹ کو انسانی وسائل کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انسانی حقوق گروپس نے اسے “امتیازی اور آزادیِ رائے کی خلاف ورزی” قرار دیا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ “قومی سلامتی اور بنیادی آزادیوں کی حفاظت” کے لیے ناگزیر ہے۔