
واشنگٹن (16 مارچ 2026)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے نتائج کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ نے ایران کے 7 ہزار سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جن میں دفاعی نظام، ڈرون اور میزائل بنانے کی تنصیبات شامل ہیں۔
ٹرمپ کے اہم دعوے
- ایران کے حملوں میں 90 فیصد کمی آئی ہے۔
- ایرانی قیادت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
- ایران کے 100 سے زائد جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں۔
- خرق جزیرے پر آئل پائپ لائن کے علاوہ سب کچھ تباہ کر دیا گیا ہے۔
- آبنائے ہرمز سے امریکہ کا صرف ایک فیصد تیل گزرتا ہے، اس لیے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے چین سمیت دیگر ممالک سے مدد کی اپیل کی ہے۔
- اگر نیٹو نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ کی تو نیٹو کا مستقبل بہت برا ہوگا۔
- ایران سے بات چیت جاری ہے، مگر انہیں تیار نظر نہیں آ رہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق 7 ممالک سے بات چیت ہو رہی ہے اور ان سے حفاظت میں مدد کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ایرانی موقف
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کے دعووں کی سختی سے تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران نے کسی سے مذاکرات کے لیے رابطہ نہیں کیا۔ ایران سعودی عرب پر حملوں میں ملوث نہیں۔ امریکہ کے لوکس ڈرون ایرانی ڈرون شاہد کی نقل ہیں، جو عرب ممالک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت پر جواب دیا ہے اور اسے اپنا قانونی حق قرار دیا ہے۔
جاری صورتحال
امریکہ اور اسرائیل کے ایران اور لبنان پر حملے 16ویں روز میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایران نے بھی جواب میں 54ویں لہر کا آغاز کرتے ہوئے سجیل میزائل برسائے ہیں۔ جنگ کو 8 روز ہو چکے ہیں، اور امریکہ اور اسرائیل نے میڈیا پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ٹرمپ منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ ایران ختم ہو گیا، مگر ایران میں لوگوں کے حوصلے بلند ہیں اور روزمرہ کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
یہ صورتحال خطے میں شدید کشیدگی کی عکاسی کر رہی ہے، جہاں دونوں طرف سے الزامات اور جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا مذاکرات کامیاب ہوں گے یا تنازع مزید بڑھے گا۔






