
تہران (7 مارچ 2026)
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پڑوسی خلیجی ممالک پر ہونے والے حملوں پر معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا کسی پڑوسی ملک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ عبوری قیادت کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ پڑوسی ممالک پر مزید حملے نہیں کیے جائیں گے، بشرطیکہ ان ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف کوئی جارحیت نہ ہو۔ صدر نے کہا کہ ایران علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے میں تعاون کے لیے پڑوسی ممالک کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے۔
دوسری جانب کراچی میں تعینات ایران کے قونصل جنرل اکبر عیسی زادے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے دوست ممالک کے ذریعے مذاکرات کا ڈھونگ رچایا اور دوسری طرف خطے میں بحری بیڑہ تعینات کر دیا۔ ایران کو ملکی دفاع کا قانونی اور سفارتی اختیار حاصل ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے یکطرفہ حملہ کیا، جس میں 168 معصوم بچے شہید ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ ایران پر شب خون مار کر حملہ کیا گیا۔ ایران اس وقت تک جنگ جاری رکھے گا جب تک مقاصد حاصل نہیں ہوتے۔ جہاں جہاں امریکہ اور اسرائیل کے اثاثے موجود ہیں، انہیں نشانہ بنانا ایران کا حق ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے سیولین اور معصوم لوگوں کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ اقوام متحدہ خاموش ہے اور مسلم ممالک ذمہ داری ادا نہیں کر رہے۔ دشمن کی سازش ہے کہ مسلم امت کو تقسیم کرے، مگر مسلمانوں کو اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
جنگ کو 8 روز ہو چکے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے میڈیا پر قبضہ کر رکھا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ ایران ختم ہو گیا، مگر ایران میں لوگوں کے حوصلے بلند ہیں اور روزمرہ کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
یہ بیانات خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کی پوزیشن کو واضح کرتے ہیں، جبکہ ایران نے اب معافی اور تعاون کی پیشکش کی ہے۔






