ایران کے اہم تجارتی شراکت دار (جو امریکی ٹیرفس کی زد میں آ سکتے ہیں)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ٹیرفس ایران کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں کو براہ راست متاثر کر سکتے ہیں۔ ایران کے اہم تجارتی پارٹنرز اور ان کے ساتھ تجارت کے حجم کا جائزہ (تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار کے مطابق) درج ذیل ہے:

  1. چین – ایران کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر
    • 2024 میں ایران کی چین سے درآمدات: 18 ارب ڈالر
    • برآمدات: 14.5 ارب ڈالر
    • مجموعی تجارت کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ چین کے ساتھ ہے۔
    • اہم برآمدات: تیل، گیس، کیمیائی مصنوعات۔ درآمدات: مشینری، الیکٹرانکس، گاڑیاں۔
  2. متحدہ عرب امارات (یو اے ای)
    • 2022 میں درآمدات: 18 ارب ڈالر
    • برآمدات: 6 ارب ڈالر
    • اہم درآمدات: سونا، اسمارٹ فونز، مکئی۔ برآمدات: تیل اور گیس۔
  3. ترکی
    • 2022 میں درآمدات: 6 ارب ڈالر سے زیادہ
    • برآمدات: 5.8 ارب ڈالر
    • یہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت مستحکم رہتی ہے۔
  4. عراق
    • 2022 میں برآمدات: 7.35 ارب ڈالر
    • درآمدات: 456 ملین ڈالر
    • ایران کا سب سے بڑا برآمدی مارکیٹ۔
  5. روس
    • 2022 میں درآمدات: 1.5 ارب ڈالر
    • برآمدات: 690 ملین ڈالر
    • حالیہ برسوں میں تجارت میں اضافہ ہوا ہے۔
  6. بھارت
    • 2024-25 میں مجموعی تجارت: 1.7 ارب ڈالر (2018-19 میں 17 ارب ڈالر سے بہت کم)
    • اہم برآمدات: چاول، چینی، پھل، ادویات۔ درآمدات: پستہ، سیب، کیوی۔
  7. جرمنی
    • 2025 (جنوری-نومبر): برآمدات 870.5 ملین یورو (تقریباً 1 ارب ڈالر)، درآمدات 217 ملین یورو۔
  8. تھائی لینڈ
    • 2022 میں مجموعی تجارت: 199.8 ملین ڈالر۔
  9. سری لنکا
    • 2024 میں برآمدات: 68 ملین ڈالر (پچھلے سال سے زیادہ)۔
  10. جاپان اور فلپائن
    • دونوں کے ساتھ تجارت نسبتاً کم ہے (2024 میں 50-90 ملین ڈالر کے درمیان)۔

نتیجہ امریکی 25 فیصد ٹیرفس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک چین، یو اے ای، ترکی، عراق اور روس ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ ایران کی تجارت کا حجم بہت زیادہ ہے۔ بھارت اور دیگر ممالک بھی متاثر ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا حجم کم ہے۔ یہ اقدام ایران کے خلاف امریکی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔