بابر اعظم نے جنوبی افریقہ ٹیسٹ میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا تاریخی سنگ میل عبور کر لیا

پہلے ایشین اور پاکستانی بلے باز، 37 میچوں میں 48.64 اوسط سے 3016 رنز، 8 سنچریاں اور 18 ففٹیز
شبمن گل 2826 رنز پر دوسرے، رشبھ پنت 2731 پر تیسرے، ٹاپ 8 میں آسٹریلوی اور انگریز بلے بازوں کی برتری

تصویر: UrduPoint.com

پاکستان کے اسٹار بلے باز بابر اعظم نے اتوار 12 اکتوبر 2025 کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں جنوبی افریقہ کے خلاف دو میچز کی ٹیسٹ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (ڈبلیو ٹی سی) کی تاریخ کا اہم سنگ میل عبور کر لیا۔ بابر، جو میچ سے پہلے صرف دو رنز سے پیچھے تھے، نے 23 رنز کی اننگز کے دوران سینوران موتھوسیمی کی گیند پر فور اسٹروک لگا کر 3000 رنز کا ہندسہ مکمل کیا، اور پہلے ایشین، پہلے پاکستانی اور مجموعی طور پر آٹھویں بلے باز بن گئے۔ انہوں نے 37 ٹیسٹ میچوں میں 48.64 کی شاندار اوسط سے 3016 رنز اسکور کیے، جن میں 8 سنچریاں اور 18 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ یہ کارنامہ بھارتی بلے بازوں ویرات کوہلی (2617 رنز) اور روہت شرما (2716 رنز) سے آگے نکلنے والا ہے، جو اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔

ڈبلیو ٹی سی میں 3000 سے زائد رنز بنانے والوں میں بابر 3016 رنز کے ساتھ 8ویں نمبر پر ہیں، جہاں آسٹریلوی بلے بازوں کی برتری ہے: سٹیو سمتھ (4278)، مارنس لیبوشین (4225)، ٹریوس ہیڈ (3300) اور عثمان خواجہ (3288)۔ انگریز بلے باز جو روٹ (6080)، بین اسٹوکس (3616) اور زاک کرولی (3041) بھی فہرست میں شامل ہیں۔ ایشین بلے بازوں میں بابر سرفہرست ہیں، جبکہ بھارتی کپتان شبمن گل 39 میچوں میں 43.47 اوسط سے 2826 رنز (10 سنچریاں، 8 ففٹیز) کے ساتھ دوسرے، اور رشبھ پنت 38 میچوں میں 43.34 اوسط سے 2731 رنز (6 سنچریاں، 16 ففٹیز) کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ بابر نے یہ مائل اسٹون سب سے کم اننگز (67) میں عبور کیا، جو ان کی مستحکم کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ سنگ میل پاکستان کی ڈبلیو ٹی سی 2025-27 مہم کا اچھا آغاز ہے، جہاں موجودہ چیمپئن جنوبی افریقہ کے خلاف یہ سیریز اہم ہے۔ بابر کی واپسی (ایشیا کپ 2025 سے باہر ہونے کے بعد) نے ٹیم کو تقویت دی، حالانکہ ان کی حالیہ فارم (آخری 27 اننگز میں 3 ففٹیز) پر تنقید ہوئی، مگر یہ مائل اسٹون ان کی کلاس کی یاد دلاتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *