
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں سہ فریقی ٹی20 سیریز کے پہلے میچ میں بابر اعظم نے زمبابوے کے خلاف 52 گیندوں پر 7 چوکیوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 74 رنز بنا کر ویرات کوہلی کا ٹی20 انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ نصف سنچریوں کا ریکارڈ برابر کر دیا۔ یہ بابر کی کیریئر کی 38ویں نصف سنچری تھی، جو ان کی مستقل مزاجی کی علامت ہے اور 2026 ٹی20 ورلڈ کپ کی تیاری میں اہم ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ فارم واپسی ان کی حالیہ ناکامیوں (پچھلے 15 میچوں میں صرف 2 ففٹیز) کے بعد آئی ہے۔
پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 5 وکٹوں پر 195 رنز بنائے، جہاں صاحبزادہ فرحان نے 41 گیندوں پر 4 چوکیوں اور 3 چھکوں سے 63 رنز بنائے، فخر زمان نے 10 گیندوں پر 27* (1 چوکا، 3 چھکے) کی جارحانہ اننگز کھیلی، اور بابر کی 74 رنز (127 اسٹریٹ ریٹ) نے ٹیم کو مضبوط بنیاد دی۔ زمبابوے کو 196 کا ہدف دیا گیا، جو ان کی کمزور بیٹنگ کے لیے مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔
ٹی20 میں سب سے زیادہ نصف سنچریاں:
- بابر اعظم: 38 (134 میچز، 4,392 رنز، 3 سنچریاں)
- ویرات کوہلی: 38 (125 میچز، 4,188 رنز، 1 سنچری)
- روہت شرما: 32
- محمد رضوان: 30
- ڈیوڈ وارنر: 28
ٹی20 میں سب سے زیادہ چوکیاں:
- بابر اعظم: 464
- پال سٹرلنگ: 430
- روہت شرما: 383
- ویرات کوہلی: 363
یہ کارکردگی بابر کو عالمی سطح پر دوبارہ سرخیل کر دیتی ہے، مگر ماہرین کہتے ہیں کہ مستقل فارم ہی انہیں عظیم بنائے گی۔






