بجلی صارفین کی جیبوں سے اربوں روپے اضافی نکالنے کی تیاریاں؛ ڈسکوز نے 45 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست دی

نیپرا میں سماعت مکمل؛ 8 ارب 41 کروڑ روپے کا بوجھ، گردشی قرضے بڑھنے کا خدشہ

صارفین کا اعتراض: صنعتی پیکج کے باوجود سرچارج جاری، نقصانات کم نہ ہونے سے قرض بڑھے گا

وفاقی حکومت نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 45 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست نیپرا میں دائر کر دی، جس سے صارفین پر 8 ارب 41 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ نیپرا چیئرمین وسیم مختار کی سربراہی میں سماعت ہوئی، جہاں ڈسکوز نے پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر 2025) کے نقصانات اور کم ریکوری کی بنیاد پر اضافہ مانگا۔ پاور ڈویژن نے بتایا کہ اضافی لائن لاسز اور کم وصولی سے گردشی قرض بڑھ رہا ہے، جبکہ صارفین نے اعتراض کیا کہ وزیراعظم کے صنعتی/زرعی پیکج (16 روپے رعایت) کے باوجود 3 روپے 23 پیسے سرچارج جاری ہے، اور قرض ختم نہیں ہو رہا۔

ممبر نیپرا رفیق شیخ نے کہا کہ “ڈسکوز کے نقصانات اور چوری کم نہ ہوئی تو قرض بڑھتا رہے گا”۔ صنعتکاروں نے کہا کہ بینکوں سے قرض پر سرچارج دوبارہ لگے گا، جو مہنگائی بڑھائے گا۔ نیپرا نے اعداد و شمار کا جائزہ لے کر فیصلہ وفاقی حکومت کو بھیجے گی، جو 15 نومبر تک نافذ ہو سکتا ہے۔ یہ اضافہ گھریلو، کمرشل، اور صنعتی صارفین کو متاثر کرے گا، جبکہ وزیر توانائی اویس لغاری نے پیکج کو معاشی بحالی قرار دیا۔