بنگلہ دیش کا ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں بھارت نہ جانے کا حتمی فیصلہ؛ آئی سی سی سے میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست

ڈھاکا (14 جنوری 2026) بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو واضح جواب دے دیا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے اپنی ٹیم بھارت نہیں بھیجیں گے۔ بی سی بی اور آئی سی سی کے درمیان ویڈیو کانفرنس ہوئی، مگر دونوں فریقین حل نکالنے میں ناکام رہے۔ بورڈ نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ بنگلہ دیش کے تمام میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کر دیے جائیں۔

بی سی بی نے بیان میں کہا کہ کھلاڑیوں، عہدیداروں اور عملے کی حفاظت اولین ترجیح ہے، اور اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ آئی سی سی نے شیڈول برقرار رکھنے پر زور دیا اور بی سی بی سے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی، مگر بورڈ پر اپنی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

یہ فیصلہ مستفیض الرحمان کی آئی پی ایل سے بے دخلی کے بعد 4 جنوری کو کیا گیا تھا، جس کے بعد بنگلہ دیش نے بھارت میں میچز نہ کھیلنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹی20 ورلڈ کپ 7 فروری 2026 سے بھارت اور سری لنکا میں مشترکہ طور پر ہوگا، اور بنگلہ دیش کے تمام گروپ میچز بھارت میں شیڈول ہیں۔

یہ تنازع بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان اگست 2024 سے جاری کشیدگی کا نتیجہ ہے، جب طلبہ تحریک کے بعد شیخ حسینہ واجد کی حکومت ختم ہوئی تھی، جو بھارت کی اتحادی تھی۔ حالیہ دنوں میں شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد قاتلوں کے بھارت فرار ہونے کے الزامات نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔ محمد یونس نے بھارت پر کشیدگی بڑھانے کا الزام لگایا، جبکہ بھارت نے اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کا الزام عائد کیا ہے۔

یہ فیصلہ بنگلہ دیش کی ٹی20 ٹیم (لٹن داس کی قیادت میں آئی سی سی رینکنگ میں نویں نمبر پر) کے لیے بڑا چیلنج ہے، جو اب تک کسی ٹی20 ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک نہیں پہنچ سکی۔ آئی سی سی کی طرف سے ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل نہیں آیا، اور صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔