
لاہور (9 دسمبر 2025، رات 10:16) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ نومبر 2025 میں اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں ماہانہ بنیاد پر 6.7 فیصد کی بڑی کمی آئی ہے، اور کل 3.20 ارب ڈالر وطن بھیجے گئے۔ یہ کمی خلیجی ممالک سے کم ترسیلات کی وجہ سے ہوئی، جہاں سعودی عرب سے 10%، متحدہ عرب امارات سے 4% اور عمان سے 22% کمی ریکارڈ کی گئی۔ نومبر میں سعودی عرب سے 750 ملین ڈالر، یو اے ای سے 675 ملین ڈالر، برطانیہ سے 480 ملین ڈالر اور امریکہ سے 280 ملین ڈالر بھیجے گئے۔ تاہم سالانہ بنیاد پر ترسیلات میں 9.4% کا اضافہ ہوا، جو مستحکم ایکسچینج ریٹ کی وجہ سے ہے۔
رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ (جولائی تا نومبر 2025) میں کل ترسیلات زر 16.14 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 9.3% زیادہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماہانہ کمی خلیجی ممالک میں پاکستانی ورکرز کی مشکلات، عالمی معاشی سست روی اور کرنسی ریٹ کی وجہ سے ہوئی، جبکہ سالانہ اضافہ روپے کی نسبتاً استحکام کی بدولت ہے۔ یہ ترسیلات پاکستان کی زرمبادلہ ذخائر اور معیشت کے لیے لائف لائن ہیں، اور ماہانہ کمی حکومت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر جب درآمدات اور قرضوں کی ادائیگیوں کا دباؤ بڑھ رہا ہو۔






