
فائیو جی ٹیکنالوجی کو دنیا بھر میں ماہرین ترقی اور جدت کے لیے استعمال کر رہے ہیں، مگر کچھ لوگ اسے خوف کا ذریعہ بنا کر لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ ایک کمپنی نے ‘فائیو جی بائیو شیلڈ’ نامی یو ایس بی سٹک متعارف کروائی، جو 283 پاؤنڈ (تقریباً 57 ہزار روپے) سے 799 پاؤنڈ (1 لاکھ 61 ہزار روپے) تک فروخت ہو رہی ہے، اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ فائیو جی کی ‘تباہ کن’ ریڈیویشن سے حفاظت کرتی ہے۔ یہ سٹک دراصل ایک عام 128 ایم بی کی یو ایس بی ڈرائیو ہے، جس پر ایک سٹکر لگا ہوا ہے، اور اس کی اصل قیمت صرف 6 پاؤنڈ (تقریباً 1,200 روپے) ہے۔
برطانیہ میں گلاسٹنبری ٹاؤن کونسل کی پانچ جی ایڈوائزری کمیٹی نے اسے سفارش کی، مگر تحقیق سے پتہ چلا کہ یہ محض ایک سادہ یو ایس بی ہے، جس میں کوئی خاص ٹیکنالوجی نہیں۔ لندن ٹریڈنگ اسٹینڈرڈز نے اسے دھوکہ قرار دے کر پولیس کے فرقہ کو رپورٹ کیا، اور ویب سائٹ بند کروا دی گئی۔ کمپنی کا دعویٰ تھا کہ یہ ‘کوانٹم ہولوگرافک کاتالیزر ٹیکنالوجی’ سے الیکٹرک دھند اور الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ سے بچاتی ہے، مگر یہ سب جھوٹ نکلا۔ اس سے پہلے سیاٹل میں لوگ پانچ جی لوشن خرید کر لٹ رہے تھے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ پانچ جی محفوظ ہے، اور ایسے دھوکوں سے بچنا چاہیے






