21-23 نومبر کو لاہور میں “بدل دو نظام” کے نعرے پر تاریخی اجتماع؛ مفاد پرستوں نے ملک کو یرغمال بنایا، قومی سلامتی خطرے میں

“Image Source: UrduPoint.com
جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے مینار پاکستان پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 21 سے 23 نومبر کا تین روزہ عظیم اجتماع “ظلم و جبر کے مسلط نظام” کو بدلنے کا نقطہ آغاز ہوگا۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا:
- “شرابی مارشل لاء ہو یا نمازی مارشل لاء، نتائج دونوں کے ایک ہی ہوتے ہیں”
- مفاد پرست قوتوں نے پورا نظام یرغمال بنا رکھا ہے
- آئین کو کھلونا بنا دیا گیا، جاگیرداری اور سرمایہ داری کے نظام کو ختم کرنا ہوگا
- بگڑتی صورتحال قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے
لیاقت بلوچ نے کہا کہ عوام میں بے چینی اور مایوسی عروج پر ہے، اس اجتماع کا مقصد عوام کو حوصلہ دینا اور نظام کی تبدیلی کا واضح لائحہ عمل دینا ہے۔ 2014 کے بعد یہ سب سے بڑا اجتماع ہوگا جس میں:
- 40 ممالک سے 200 کے قریب عالمی شخصیات شرکت کریں گی
- خواتین کی عالمی کانفرنس، یوتھ سیشن، مشاعرہ، عدل و انصاف، معیشت، تعلیم پر سیشنز
- جمعہ کو بادشاہی مسجد میں عالمی المسلمین کے سربراہ الشیخ علی قرہ داغی خطبہ دیں گے
- امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن قوم کو آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے
جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ یہ محض جلسہ نہیں، ایک نئی تحریک کا آغاز ہے جس کا مرکزی نعرہ ہے: “بدل دو نظام”۔






