پٹرول 2.43 روپے، ڈیزل 3.02 روپے مہنگا؛ LPG سلنڈر 69.44 روپے سستا، صارفین کو 4.50 ارب کا ریلیف
اوگرا کا فیصلہ؛ ستمبر فیول ایڈجسٹمنٹ 37 پیسے سستا، صنعت/زراعت کو 16 روپے رعایت، NEPRA 6 نومبر کو حتمی

وفاقی حکومت نے 1 نومبر 2025 سے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں نافذ کر دیں، جو اوگرا کی جانب سے ماہ نومبر کے پہلے 15 دنوں کے لیے جاری نوٹیفیکیشن ہے، جس میں پٹرول کی قیمت 2.43 روپے اضافے سے 265.45 روپے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 3.02 روپے بڑھ کر 278.44 روپے، لائٹ ڈیزل 2.40 روپے مہنگا ہو کر 165.16 روپے، اور کیروسین 0.50 روپے اضافے سے 182.21 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ یہ تبدیلیاں عالمی مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ، ایکس ڈپو قیمتوں، اور ٹیکسز کی بنیاد پر ہیں، اور 15 نومبر تک نافذ رہیں گی۔
دوسری جانب، اوگرا نے LPG کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا، جس کے تحت گھریلوی سلنڈر کی قیمت 69.44 روپے کم ہو کر 2,378.89 روپے، اور فی کلو 5.88 روپے سستا ہو کر 2,378.89 روپے ہو گئی، جو 1 اکتوبر سے نافذ ہے۔ ستمبر فیول ایڈجسٹمنٹ کی سماعت میں CPPA-G کی 37 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست منظور ہوئی، جو 4.50 ارب روپے کا ریلیف دے گی، مگر سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 36 پیسے اضافہ متوقع ہے، جو 8.01 ارب روپے کا بوجھ ڈالے گا، جس کا فیصلہ NEPRA 6 نومبر کو کرے گی۔
وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے صنعت وزراعت کو 16 روپے فی یونٹ رعایت کا اعلان کیا، جہاں صنعتی 34 روپے سے 22.98 روپے، زرعی 38 روپے سے 22.98 روپے، جو 3 سال (نومبر 2025-اکتوبر 2028) تک ہے، اور 7,000 MW اضافی بجلی G2G فراہم کی جائے گی، جو معیشت کو سہارا دے گا۔






