حکومت کا فائیو جی کے لیے موبائل فونز اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ؛ 6 ماہ میں انٹرنیٹ میں واضح بہتری کا وعدہ

اسلام آباد (3 جنوری 2026) وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں فائیو جی سروسز شروع کرنے کے لیے موبائل فونز کی اپ گریڈیشن پر کام کیا جائے گا، کیونکہ پاکستان میں فی الحال فائیو جی سپورٹڈ موبائل بہت کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے ماہ فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی ہوگی، جو 7 بینڈز پر ہو رہی ہے، جن میں سے 5 بینڈز پر پاکستان میں پہلی بار نیلامی ہوگی۔ نیلامی بہتر سے بہتر شرائط پر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فائیو جی سروسز چھ ماہ کے اندر اسلام آباد سمیت صوبائی دارالحکومتوں میں شروع کر دی جائیں گی، اور آکشن کے چھ ماہ بعد انٹرنیٹ سسٹم میں واضح بہتری نظر آئے گی۔

وزیر نے بتایا کہ پاکستان ایم وی این او (موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر) کی مارکیٹ کا حصہ بننے جا رہا ہے، یوفون اور ٹیلی نار مرجر کے بعد ملک میں تین کمپنیاں رہ گئی ہیں، ایم وی این او کے آنے سے مزید کمپنیاں آئیں گی اور سرمایہ کاری بھی بڑھے گی۔ انٹرنیٹ کی سست رفتار کی بنیادی وجہ دستیاب سپیکٹرم کی شدید کمی ہے، پاکستان 24 کروڑ آبادی کے لیے صرف 274 میگا ہرٹز سپیکٹرم پر نیٹ ورک چلا رہا ہے، جو خطے میں سب سے کم ہے۔ وفاقی کابینہ نے بڑے سپیکٹرم آکشن کا فریم ورک منظور کر لیا ہے، پی ٹی اے نے ڈسٹرکٹ لیول پر فائبرائزیشن کی منظوری دے دی ہے، اب کیبل آپریٹرز بھی سی ویس لائسنس لے کر انٹرنیٹ پہنچا سکیں گے۔ پچھلے سالوں میں 3 سب میرین کیبلز پاکستان لائے گئے ہیں۔

شزہ فاطمہ نے کہا کہ قابل اعتماد انٹرنیٹ کے بغیر ترقی ممکن نہیں، پاکستان دنیا کی چوتھی بڑی فری لانسنگ معیشت ہے اور آئی ٹی سیکٹر 20 سے 21 فیصد سالانہ ترقی کر رہا ہے۔

یہ اعلانات فائیو جی کے اجرا اور انٹرنیٹ کی بہتری کے لیے حکومت کی سنجیدگی کو ظاہر کر رہے ہیں۔