
دبئی ایئر شو 2025 میں بھارتی لائٹ کامبیٹ ایئر کرافٹ (LCA) تیجس Mk-1A کی نمائش کے دوران آئل لیک کا واقعہ عالمی سطح پر بھارتی فضائیہ کی کمزوری کو بے نقاب کر گیا۔ ویڈیو میں دیکھا گیا کہ رن وے پر کھڑا طیارہ انجن سے تیل رس رہا تھا، اور ٹیکنیشنز نے شاپنگ بیگز اور پلاسٹک ڈرم سے لیک روکنے کی کوشش کی، جو “میک ان انڈیا” مہم کی ناکامی کی علامت بن گیا۔ یہ حادثہ مئی 2025 کی پاک بھارت جھڑپ میں بھارتی رافیل طیاروں کی تباہی کے بعد آیا، جہاں امریکی کمیشن نے پاکستان کی فتح کی تصدیق کی تھی، اور بھارتی ایئر چیف اے پی سنگھ نے خود تیجس پروگرام کی تاخیروں اور ناقص معیار پر تنقید کی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیجس کا 40 سالہ پروگرام (1983 سے شروع) اب تک مکمل آپریشنل نہ ہو سکا، جہاں ہال پیداواری مسائل، انجن ناکامی، اسمارٹ لوڈ اور حرارتی دباؤ کی شکایات، اور ریڈار اپ گریڈز کی کمی نے اسے “شو پیس” بنا دیا۔ بھارتی دفاعی حلقوں میں یہ واقعہ شدید تنقید کا باعث بنا، جہاں 83 بلین ڈالر بجٹ کے باوجود تکنیکی خامیاں (پینل مس الائنمنٹ، وائبریشن، سافٹ ویئر بگز) سامنے آئیں، جو سیاسی دباؤ اور کرپشن کی پیداوار ہیں۔ یہ ناکامی بھارتی فضائیہ کی عالمی ساکھ کو مزید نقصان پہنچاتی ہے، جبکہ پاکستان کی جے ایف 17 تھنڈر جیسی ٹیکنالوجی کی برتری واضح ہو گئی۔






