
اسلام آباد (17 دسمبر 2025) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز اور انسانی حقوق کو ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال مختلف ممالک سے 51 ہزار پاکستانیوں کو بھیک مانگنے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں پر ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ 24 ہزار افراد سعودی عرب سے، 6 ہزار یو اے ای سے اور ڈھائی ہزار آزربائیجان سے ڈی پورٹ ہوئے۔ مجموعی طور پر سعودی عرب نے اب تک 56 ہزار پاکستانیوں کو بھیک مانگنے پر واپس بھیجا ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ عمرہ کے نام پر یورپ جانے کی کوشش کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر آف لوڈ کیا گیا، کیونکہ ان کے پاس یورپ جانے کے ڈاکیومنٹس ملے۔ اس سال 24 ہزار افراد کمبوڈیا گئے مگر 12 ہزار واپس نہیں آئے، جبکہ برما سیاحتی ویزہ پر جانے والے 4 ہزار میں سے ڈھائی ہزار تاحال واپس نہیں لوٹے۔
ڈی جی ایف آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ غیر قانونی ہجرت روکنے کی سخت پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کی پاسپورٹ رینکنگ 118 سے بہتر ہو کر 92 نمبر پر آ گئی ہے، اور گزشتہ برسوں میں جہاں پاکستان غیر قانونی ہجرت کرنے والے ٹاپ 5 ملکوں میں تھا، اب وہ اس فہرست سے نکل گیا ہے۔ گزشتہ سال یورپ غیر قانونی طور پر جانے والوں کی تعداد 8 ہزار تھی جو اس سال کم ہو کر 4 ہزار رہ گئی۔ ان کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ دبئی اور جرمنی نے پاکستانی سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کو ویزہ فری داخلہ دے دیا ہے۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ زمبابوے میں پاکستانی سفیر نے اطلاع دی کہ ایتھوپیا اور زیمبیا سے غیر قانونی راستوں سے یورپ جا رہے ہیں، حتیٰ کہ ایک جعلی فٹبال کلب نے جاپان بھیجا اور ٹیم میں ایک لنگڑا شخص بھی شامل تھا۔ شہریوں کی سہولت کے لیے ایمی ایپلی کیشن جنوری کے وسط میں لانچ کی جائے گی، جس میں بیرون ملک جانے والے روانگی سے 24 گھنٹے پہلے امیگریشن مکمل کر سکیں گے۔
یہ اعداد و شمار پاکستان کی ساکھ اور اوورسیز پاکستانیوں کی تصویر پر اثر انداز ہو رہے ہیں، اور حکومت کی سخت پالیسیوں سے غیر قانونی ہجرت میں کمی تو آئی ہے مگر بھیک مانگنے جیسے واقعات اب بھی تشویشناک ہیں۔






