
تصویر: اردو پوائنٹ
مشہور بھارتی گانا “یاعلی” کے گلوکار زوبین گارگ کی سنگاپور میں ہونے والی ہلاکت کے کیس میں تحقیقات نے تازہ رخ اختیار کر لیا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق آسام پولیس کی خصوصی ٹیم نے گلوکار کے بینڈ ممبر شیکھر جیوتی گوسوامی اور ساتھی گلوکارہ امرتپراوا مہانتا کو حراست میں لے لیا ہے۔ ان گرفتاریوں سے اب کیس میں زیر حراست افراد کی تعداد چار ہو گئی ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ دونوں ملزمان 19 ستمبر کو نارتھ ایسٹ انڈیا فیسٹیول کے دوران یاٹ پارٹی میں زوبین گارگ کے ساتھ موجود تھے۔ اسی دوران 52 سالہ گلوکار تیراکی کے لیے سمندر میں اترے اور کچھ دیر بعد بے ہوش حالت میں پانی کی سطح پر منہ کے بل ملے۔
ویڈیو شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ شیکھر گوسوامی گارگ کے قریب تیراکی کرتے دیکھا گیا، جبکہ امرتپراوا مہانتا نے واقعے کی ویڈیو اپنے فون پر ریکارڈ کی تھی۔ یاد رہے کہ پہلے ہی پولیس نے گارگ کے منیجر سدھارتھ شرما اور فیسٹیول منیجر شیامکانو مہانتا کو گرفتار کر لیا ہے، جن پر قتل، مجرمانہ غفلت اور سازش جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ، سی آئی ڈی اسپیشل ڈی جی پی منا گپتا نے بتایا کہ مزید شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف، گلوکار کی بیوی گارما گارگ نے عدالتی نظام پر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سچائی ضرور سامنے آئے گی اور ذمہ داروں کو سخت سزا ملے گی۔ واضح رہے کہ زوبین گارگ آسام میں سمندر میں تیراکی کے دوران ڈوبنے سے ہلاک ہوئے تھے، اور اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی تھی۔





