
سڈنی (14 دسمبر 2025، شام 7:57) آسٹریلیا کے سڈنی میں بونڈائی بیچ پر پیش آنے والے دل دہلا دینے والے فائرنگ کے واقعے میں ایک بہادر شہری نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر حملہ آور کو قابو کر کے متعدد قیمتی جانوں کی حفاظت کی، اور اب وہ عالمی میڈیا اور عوام کی نظر میں ہیرو بن چکے ہیں۔ اس بہادر شہری کی شناخت 43 سالہ احمد الاحمد کے نام سے ہوئی ہے، جو سڈنی میں ایک چھوٹی سی دکان پر پھل فروخت کرتے ہیں اور دو بچوں کے والد ہیں۔
واقعے کے دوران جب دو حملہ آوروں نے ساحل پر موجود لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی، جس سے 12 افراد ہلاک اور تقریباً 30 زخمی ہوئے، احمد الاحمد نہتے ہونے کے باوجود حملہ آوروں میں سے ایک پر ٹوٹ پڑے۔ ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احمد بغیر کسی ہچکچاہٹ کے حملہ آور کے قریب پہنچتے ہیں، اسے دبوچتے ہیں اور اسلحہ چھین کر اسے زمین پر گرا دیتے ہیں، جس سے مزید قتل عام رک گیا۔ اس بہادری کی قیمت احمد کو اپنے بازو پر دو گولیاں لگنے کی صورت میں ادا کرنی پڑی، مگر خوش قسمتی سے وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
آسٹریلوی میڈیا اور پولیس نے احمد الاحمد کو “حقیقی ہیرو” قرار دیتے ہوئے ان کی بہادری کی خوب تعریف کی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک حملہ آور موقع پر ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرے کو حراست میں لے لیا گیا، اور واقعے کو دہشت گردی قرار دے دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر احمد کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، اور لوگ انہیں سلام پیش کر رہے ہیں کہ ایک عام شہری نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر کئی قیمتی جانوں کو بچایا۔
یہ واقعہ آسٹریلیا کی تاریخ میں ایک افسوسناک سانحہ ہے، مگر احمد الاحمد جیسے بہادر افراد کی وجہ سے امید کی کرن بھی نظر آتی ہے۔






