سڈنی دہشت گردی واقعے میں بھارت سے روابط کے الزامات؛ آسٹریلوی ایجنسیوں نے بھارتی حکام سے رابطہ، نوید اکرم کا “بھارت کنکشن” زیر بحث

“Image Source: UrduPoint.com

نئی دہلی/سڈنی (15 دسمبر 2025، شام 9:01) سڈنی کے بونڈائی بیچ پر ہونے والے خوفناک دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 16 ہو چکی ہے، اور اب بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ آسٹریلوی انٹیلیجنس ایجنسیز نے حملہ آوروں کے ممکنہ بھارت سے روابط کی تحقیقات کے لیے بھارتی حکام سے باضابطہ رابطہ کر لیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق زخمی حملہ آور نوید اکرم (24 سال) کا ایک دوست نے پولیس کو بتایا کہ “نوید کا تعلق بھارت سے ہے”، جبکہ اس کی والدہ اطالوی ہے۔ حملہ آوروں کی شناخت باپ ساجد اکرم (50 سال، موقع پر ہلاک) اور بیٹا نوید اکرم کے طور پر ہوئی ہے۔ ساجد 1998 میں سٹوڈنٹ ویزہ پر آسٹریلیا آیا، 2001 میں پارٹنر ویزہ ملا اور پھر ریزیڈنٹ ریٹرن ویزا حاصل کیا، جبکہ نوید آسٹریلیا میں ہی پیدا ہوا۔ نوید 2019 میں آسٹریلوی انٹیلیجنس کی نظر میں آیا تھا، مگر اس وقت اسے خطرہ نہیں سمجھا گیا۔

آسٹریلوی وزیر داخلہ ٹونی برک نے تصدیق کی کہ حملہ آوروں کا پس منظر چیک کیا جا رہا ہے، اور حملے کو “یہود مخالف دہشت گردی” قرار دیا گیا ہے۔ حملہ آوروں سے 6 قانونی ہتھیار اور 2 دیسی بم برآمد ہوئے، اور ساجد ایک گن کلب کا ممبر تھا۔ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ آسٹریلوی ایجنسیاں نوید کے “بھارت کنکشن” کی تفصیلات مانگ رہی ہیں، مگر آسٹریلوی حکام نے ابھی اس کی سرکاری تصدیق نہیں کی۔ یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آسٹریلیا میں قومی سوگ منایا جا رہا ہے، اور عالمی سطح پر یہودی کمیونٹی کے خلاف حملوں کی مذمت ہو رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ روابط ثابت ہوئے تو یہ آسٹریلیا-بھارت تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے، مگر ابھی تحقیقات ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ پاکستانی اور بھارتی سوشل میڈیا پر یہ خبر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جہاں کچھ لوگ اسے “بھارتی سازش” قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر احتیاط کی تلقین کر رہے ہیں۔