چینی کی قیمتوں پر 77 سال بعد حکومتی کنٹرول ختم؛ عوام کے لیے مزید مہنگائی کا خطرہ

شوگر ملز ڈی ریگولیشن، درآمد/برآمد اور قیمتوں کا اختیار ختم؛ ماہرین: چینی 250 روپے کلو تک جا سکتی ہے
وفاقی حکومت نے 77 سال بعد شوگر انڈسٹری کو مکمل ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ رواں ہفتے وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین وزیراعظم کو سمری پیش کریں گے، جس میں:
- چینی کی قیمتوں پر حکومتی کنٹرول ختم
- نئی شوگر ملز لگانے پر پابندی اٹھانے کی تجویز
- درآمد/برآمد اور قیمتوں کا اختیار شوگر مل مالکان کے پاس
ماہرین اور ہول سیل گروسرز نے شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ چینی کو مزید مہنگا کر دے گا، کیونکہ:
- رواں سال گنے کی ریکارڈ 25% سے زائد پیداوار ہوئی
- صرف 10% ملز کرشنگ کر رہی ہیں، 90% تاحال بند
- ایکس مل قیمت 185 روپے، ریٹیل 200-210 روپے کلو
- مکمل کرشنگ ہو تو قیمت 120 روپے کلو تک آ سکتی تھی
ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین روف ابراہیم نے کہا کہ “شوگر ملز مالکان نے منظم انداز میں مصنوعی بحران پیدا کیا، گنے کے کاشتکاروں کو 350-400 روپے من معاہدہ کیا مگر کرشنگ نہ کر کے کسانوں کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے”۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کارٹیلائزیشن کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے، ورنہ چینی 250 روپے کلو تک جا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ساڑھے 3 سال میں چینی 70 سے 215 روپے کلو تک پہنچ چکی ہے، اب ڈی ریگولیشن سے شوگر مافیا کو کھلی چھوٹ مل جائے گی، اور عوام ایک بار پھر لوٹے جائیں گے۔






