
لاہور (25 دسمبر 2025، رات 11:53) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شریعت میں کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں اور احتساب سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صدارتی نظام ماضی میں ناکام رہا ہے اور آئندہ بھی نہیں چل سکتا، انتخابات شفاف ہوں تو عوامی مینڈیٹ کی عزت ہوگی۔ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ اگر ادارے اپنی آئینی حدود میں کام کریں تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں، مگر آئین سے کھلواڑ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے 2018 اور 2024 کے انتخابات میں عوامی رائے کا احترام نہ کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن میرٹ پر ہوتے تو ملک مہنگائی اور استحصال کا شکار نہ ہوتا۔ پی ٹی آئی سے مذاکرات کو مثبت قدم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر جماعت کو احتجاج کا جمہوری حق حاصل ہے، مگر قانون کے دائرے میں رہ کر۔ مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے قانون پاس ہو چکا ہے، مگر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے علما کو اعزازیہ دینے کے اعلان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ عمل علما کی توہین ہے۔ نئے صوبوں کے قیام پر ان کا کہنا تھا کہ اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر تقسیم کی جائے تو کوئی حرج نہیں، مگر سیاسی بنیاد پر ایسا اقدام انتشار کا باعث بنے گا۔
مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان موجودہ سیاسی اور معاشی بحران کے تناظر میں اہم ہے، جہاں وہ احتساب، شفاف انتخابات اور آئینی بالادستی پر زور دے رہے ہیں۔






