
لاہور (27 جنوری 2026) شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر نے سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھوں کی سنگین بیماری (central retinal vein occlusion) کی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری ردعمل دیا ہے۔ ہسپتال کے آفیشل فیس بک پیج سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ رات سے متعدد خبریں گردش میں ہیں جن میں عمران خان کی آنکھوں کی بیماری اور اس سے جڑے دیگر صحت مسائل کا ذکر ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ “اگرچہ ہمارے لیے اس خبر کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، تاہم ہم جناب عمران خان کی صحت کے بارے میں شدید تشویش میں ہیں۔ موجودہ معالجین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مہارت پر مکمل اعتماد ہے، مگر ہم درخواست کرتے ہیں کہ شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کو فوری طور پر خان صاحب تک رسائی دی جائے اور ان کے علاج میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے، تاکہ ان تمام لوگوں کو مطمئن کیا جا سکے جو ان کی صحت کے بارے میں فکر مند ہیں۔”
پی ٹی آئی کا موقف پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی دائیں آنکھ میں سی آر وی او (Central Retinal Vein Occlusion) کی تشخیص ہوئی ہے، جس سے آنکھ کی وین میں خطرناک بلاکیج پیدا ہو چکی ہے اور بینائی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ سنگین طبی مسئلہ ہے، اور اس کے علاج کے لیے آپریشن تھیٹر اور خصوصی سہولیات کی ضرورت ہے جو جیل میں ممکن نہیں۔ جیل انتظامیہ علاج جیل کے اندر کرانے پر بضد ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ذاتی معالج کو معائنہ کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ درخواست اگست 2025 سے زیر التوا ہے۔ پارٹی نے فوری ملاقات اور مناسب طبی سہولیات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ معاملہ سیاسی اور طبی دونوں سطح پر حساس ہے۔ شوکت خانم ہسپتال کا مطالبہ اور پی ٹی آئی کی تشویش عوام میں بھی بڑھ رہی ہے۔ اب سب کی نظریں حکومت اور جیل انتظامیہ کے ردعمل پر ہیں کہ آیا ڈاکٹروں کی ٹیم کو رسائی دی جاتی ہے یا نہیں۔






