عالمی بینک کا خدشہ: پاکستان میں مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے، معاشی ترقی 2.6 فیصد تک محدود

رواں مالی سال FY25 میں جی ڈی پی گروتھ 2.6 فیصد، سیلاب کے اثرات سے زرعی شعبہ متاثر

اگلا سال FY26 میں 3.2 فیصد ترقی متوقع، غربت کی شرح 42.3 فیصد رہے گی، IMF مذاکرات جاری

المی بینک نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر تازہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جس کے مطابق رواں مالی سال FY25 میں معاشی ترقی 2.6 فیصد تک رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ حکومت نے 4.2 فیصد کا ہدف رکھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ سیلاب کے اثرات سے معاشی بحالی سست رہے گی، اور FY25 میں مہنگائی 6.0 فیصد پر پہنچ سکتی ہے، جو بعد میں اضافی ٹیکسوں اور طلب کی وجہ سے بڑھے گی۔ پنجاب میں زرعی پیداوار 10 فیصد کم ہو سکتی ہے، کیونکہ سیلاب نے چاول، گندم، کپاس، گنا اور مکئی جیسی فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، خوراک کی سپلائی چین متاثر ہونے سے مالی خسارہ 5.5 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، اور معاشی ترقی کا دارومدار زرعی بحالی پر ہوگا۔ غربت کی شرح FY25 میں 42.3 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو FY27 تک 40.8 فیصد تک کم ہو سکتی ہے، مگر FY25 میں 1.8 ملین مزید لوگ غربت کی لکیر کے نیچے آ سکتے ہیں۔ تاہم، محصولات میں اضافہ، اخراجات میں کمی اور زرعی بحالی سے معاشی بہتری ممکن ہے۔ FY26 میں جی ڈی پی گروتھ 3.2 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، جو FY27 میں 3.5 فیصد ہو جائے گی، مگر سخت مالیاتی پالیسیوں کی وجہ سے ترقی محدود رہے گی۔

دوسری جانب، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی جائزہ مذاکرات جاری ہیں، جہاں میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز (MEFP) کے مسودے کو حتمی شکل دینے پر کام ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، وفاقی سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے آئی ایم ایف مشن سے ملاقاتیں کیں، جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے الگ سے بات چیت کی۔ مذاکرات میں مالیاتی پالیسیوں، ٹیکس اہداف اور ڈیجیٹل معیشت پر تفصیل سے بحث ہوئی۔ ایف بی آر کے ممبر کسٹمز نے محصولات بڑھانے کے اقدامات پر بریفنگ دی، اور رواں سال ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریٹ 11 فیصد تک لے جانے کا ہدف بتایا گیا۔ AI، ڈیٹا اینالیٹکس اور ڈیجیٹل انضمام سے ٹیکس نیٹ وسعت اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ توانائی لاگت کم کرنے، سرمایہ کاری ماحول بہتر بنانے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دیا جائے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *