فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس پر پی ٹی آئی کا شدید ردعمل، باردر باڑ پر سوال: دہشتگرد کیسے واپس آئے؟

کھیبرپختونخوا پولیس طالبان پکڑے تو ایجنسیز چھڑواتی کیوں، گڈ اور بیڈ طالبان کی پالیسی کیوں؟
ڈی جی آئی ایس پی آر: دہشتگردی واپس لانے والا ایک شخص، مذاکرات کا بیانیہ غلط، خیبرپختونخوا میں سیاسی مجرمانہ گٹھ جوڑ

تصویر: UrduPoint.com

تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس کانفرنس پر شدید ردعمل دیتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، اور سوال اٹھایا ہے کہ اگر باردر پر باڑ ہے تو دہشتگرد کیسے واپس آ رہے ہیں؟ سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں پی ٹی آئی نے کہا کہ “فوجی ترجمان نے ‘سیاسی ترجمان’ بن کر خیبر پختونخوا کی پولیس اور حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھایا، تو جواب دیں کہ پولیس طالبان پکڑے تو ایجنسیز کیوں چھڑواتی ہیں؟ گڈ اور بیڈ طالبان کی پالیسی کیوں چلائی جاتی ہے؟ باردر پر باڑ لگوانے کے باوجود عسکریت پسند شہری علاقوں تک کیسے پہنچ رہے؟ خیبرپختونخوا کے نمائندوں نے دہشتگردوں کو واپس لانے کی تحریک چلائی تو انہیں سیکیورٹی رسک کیوں کہا؟ 2022 میں مالاکنڈ کے عوام نے سہولت کاروں کے خلاف احتجاج کیا تو سلسلہ کیوں نہیں روکا گیا؟ افغانستان جا کر سہولت کاروں سے معاملات کون طے کر آیا؟” پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ جان بوجھ کر سہولت کاروں کو جگہ دی گئی، اور عوام کو اپنے سیکیورٹی اداروں سے یہ سوالات پوچھنے چاہییں۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اب سٹیٹس کو نہیں چلنے دیں گے، شہداء کی قربانیاں سیاست کی نذر نہیں ہوں گی، دہشتگردوں اور سہولت کاروں کے لیے زمین تنگ کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے گورننس کے خلا کو پورا کرنے کے لیے فوج کا خون بہایا جا رہا ہے، نیپ پر عمل نہ کر کے سیاست کرنے سے دہشتگردی کا خاتمہ کیسے ہوگا؟ ریاست اور اس کی افواج کسی سیاسی بگاڑ کی پرواہ نہیں کریں گی، پاکستان کو ایک شخص کے لیے نہیں چھوڑا جا سکتا جو دہشتگردی واپس لانے کا ذمہ دار ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بیانیہ یہ ہے کہ دہشتگردوں سے مذاکرات کریں؟ آپریشن نہ ہونے دیں؟ ہر مسئلے کا حل بات چیت ہے؟ اگر بات چیت سے سب حل ہوتا تو بدر کا میدان یاد کریں، جہاں سرور کائنات ﷺ نے بھی لڑائی کی۔ 9-10 مئی کو بھارت کے حملے پر بات چیت کیوں نہ کی؟ سندھ اور پنجاب میں دہشتگردی کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں گڈ گورننس ہے، پولیس کام کر رہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہے، افغانوں کو واپس بھیجنے پر سیاست کیوں؟ 2014 اور 2021 میں غلط تھے، آج ریاست کہہ رہی ہے تو بیانیے کیوں؟ ملک کو منشیات، اسمگلنگ، بھتہ خوری، اغوا اور نان کسٹم گاڑیوں سے پاک کرنا ہے، مگر کام کرنے پر آوازیں آتی ہیں۔ کسی ایک شخص کو اجازت نہیں کہ وہ اپنی ذات کے لیے پاکستان اور خیبرپختونخوا کی جان مال عزت کا سودا کرے، چاہے کوئی بھی ہو، اس کے لیے زمین تنگ ہوگی۔ پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح دہشتگردوں اور سہولت کاروں کے خلاف کھڑی ہے اور رہے گی

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *