
لاہور (24 جنوری 2026) پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ مبینہ مالی فراڈ کی خبروں کے بعد انویسٹمنٹ کرنے والی کمپنی کے مالک نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے تمام الزامات کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کمپنی مالک نے کہا کہ کھلاڑیوں کے ساتھ 2023 سے انویسٹمنٹ کا سلسلہ چل رہا ہے، اور میرے ساتھ تمام کھلاڑیوں کا مکمل تحریری معاہدہ موجود ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تمام کھلاڑیوں کے پاس کمپنی کے گارنٹی چیک موجود ہیں، اور فراڈ جیسے الزامات بالکل بے بنیاد ہیں۔ کمپنی مالک نے بتایا کہ میں کبھی امریکہ نہیں گیا اور نہ میرے پاس امریکی ویزا ہے۔ میں دبئی میں موجود ہوں اور تمام کھلاڑیوں سے رابطے میں ہوں۔ کمپنی دبئی بیسڈ ہے اور ہم ٹریڈنگ کا کام کرتے ہیں۔ پہلی مرتبہ ادائیگیاں تاخیر کا شکار ہوئیں، مگر چند دن میں سب کلیئر کر دی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں پاکستانی ہوں اور میری فیملی پاکستان میں موجود ہے۔ کھلاڑیوں کے علاوہ میرے پاس مزید انویسٹرز بھی موجود ہیں، اور ہم باقاعدگی سے ادائیگیاں کرتے رہے ہیں۔
کھلاڑیوں کا مؤقف متعلقہ کرکٹرز نے بھی کمپنی مالک کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کمپنی میں انویسٹمنٹ کی تھی، اور ہمارے ساتھ کوئی فراڈ نہیں ہوا۔ کمپنی ہم سے رابطے میں ہے اور مارچ تک تمام پیمنٹ کلیئر کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ صرف 2 چیک باؤنس ہوئے ہیں۔ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے بھی رابطہ کیا تھا، مگر ہم نے انہیں بتایا کہ ابھی تک کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو بتائیں گے۔
معاملہ کیا ہے؟ ذرائع کے مطابق سابق اور موجودہ کرکٹرز نے ایک کاروباری شخص کے ساتھ سرمایہ کاری کی تھی، جو غیر معمولی منافع کے وعدے پر مبنی تھی۔ کچھ کرکٹرز نے براہ راست اور کچھ سابق کپتان کی دیکھا دیکھی میں یہ سرمایہ کاری کی۔ ابتدائی خبروں میں کہا گیا کہ کروڑوں روپے ہڑپ لیے گئے، مگر کمپنی مالک اور کرکٹرز دونوں نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ معاملہ فی الحال ادائیگیوں میں تاخیر تک محدود ہے، اور کرکٹرز کو امید ہے کہ جلد حل ہو جائے گا۔
یہ معاملہ پاکستانی کرکٹ کے لیے حساس ہے، اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی بھی اسے فالو کر رہے ہیں۔ اگر ادائیگیاں نہ ہوئیں تو قانونی کارروائی کا امکان بھی موجود ہے۔






