ملتان روڈ پر 500، جی ٹی روڈ 500، شاہدرہ 391؛ بھارتی ہوائیں اور مقامی ذرائع سے دھند کا طوفان
مریم اورنگزیب: انسداد سموگ اقدامات مؤثر، لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں؛ شہری ماسک اور احتیاط اپنائیں

لاہور کی فضائی آلودگی نے انتہائی خطرناک موڑ اختیار کر لیا ہے، جہاں شہر کو آج بھی دنیا کا آلودہ ترین مقام قرار دیا گیا۔ محکمہ ماحولیات پنجاب کی رپورٹ کے مطابق، لاہور کا مجموعی اے کیو آئی 388 تک پہنچ گیا، جو ‘ہیزارڈس’ زمرے میں آتا ہے، اور PM2.5 کی سطح 167 µg/m³ تک جا پہنچی، جو WHO کی حد سے 33 گنا زیادہ ہے۔ ملتان روڈ پر AQI 500، جی ٹی روڈ 500، شاہدرہ 391، سفاری پارک 377، کاہنہ اور پنجاب یونیورسٹی 335 ریکارڈ ہوئے، جبکہ گوجرانوالہ 500، سرگودھا 347، فیصل آباد 306، ملتان 304، اور ڈی جی خان 244 پر پہنچے۔
یہ آلودگی بھارتی دیوالی کی آتش بازی، کھیتوں کی جلائی، اور مقامی گاڑیوں/کارخانوں کے دھوئیں سے بڑھ رہی ہے، جہاں مشرقی ہوائیں (4-7 کلومیٹر فی گھنٹہ) آلودگی کو لاہور لے آ رہی ہیں۔ سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ “وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں انسداد سموگ اقدامات مؤثر ثابت ہوئے، گزشتہ سال اکتوبر میں لاک ڈاؤن کی ضرورت پڑی تھی، مگر آج صورتحال بہتر ہے، نہ انڈسٹری بند کی نہ سکول—ملٹی سیکٹرل اپروچ سے کسان، صنعت کار، اور شہری مل کر لڑیں گے”۔ طبی ماہرین نے ماسک، گھروں میں رہنے، ایئر پیوریفائر، اور باہر نہ نکلنے کی ہدایت دی، کیونکہ سانس کی تکلیف، آنکھوں میں جلن، اور امراض کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔






