
ولیم اینڈ میری یونیورسٹی کی ریسرچ لیب “AidData” کی تازہ رپورٹ کے مطابق:
- 2000–2023 کے دوران چین نے دنیا بھر کو 2.2 ٹریلین ڈالر کے قرضے اور گرانٹس دیے
- امریکہ سب سے بڑا وصول کنندہ: 200 بلین ڈالر سے زائد (تقریباً 25 سو منصوبوں کے لیے)
- چینی سرکاری ادارے امریکہ کے ہر شعبے میں موجود: → ٹیکساس/لوئیزیانا میں LNG پلانٹس → شمالی ورجینیا میں ڈیٹا سینٹرز → JFK اور LAX ایئرپورٹس کے ٹرمینلز → Dakota Access اور Methorn Express پائپ لائنز → ایمازون، ٹیسلا، بوئنگ، ورائیزن، جنرل موٹرز، ڈزنی سمیت کمپنیوں کو کریڈٹ
رپورٹ کے مطابق اب چین کی 75% سے زائد قرضہ جاتی سرگرمیاں امیر اور بالائی متوسط آمدنی والے ممالک میں مرکوز ہیں، جبکہ غریب ممالک کا حصہ 88% سے گھٹ کر صرف 12% رہ گیا۔
یہ تبدیلی “بیلٹ اینڈ روڈ” سے آگے بڑھ کر اسٹریٹیجک انفراسٹرکچر، سیمی کنڈکٹرز، AI، صاف توانائی اور اہم معدنیات پر فوکس کی عکاسی کرتی ہے۔






