
تصویر: UrduPoint.com
مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کے ڈرافٹ میں 49 تجاویز منظور کر لیں، جو سینیٹ میں پیش ہوگی، جہاں اتحادی جماعتوں کی مزید ترامیم پر وقت دیا گیا۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ کمیٹی نے آرٹیکل 243 میں ترمیم، جو فیلڈ مارشل عہدے کو تاحیات اور آئینی تحفظ دے گی، سمیت 49 تبدیلیاں منظور کیں، جبکہ سپریم کورٹ کی جگہ نو رکنی آئینی عدالت، ججوں کی عمر 70 سال، چیف الیکشن کمشنر تقرری میں سپریم جوڈیشل کمیشن، اور این ایف سی ایوارڈ میں وفاق کو 10% اضافہ شامل ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادیوں کے اعزاز میں عشائیہ دیا، جہاں PPP، MQM، PML-Q، BNP-M، اور IPP سے حمایت حاصل کی، مگر عوامی نیشنل پارٹی (3 سینیٹرز) نے شرکت نہ کی۔ بل 7 نومبر کو سینیٹ میں پیش ہوا، جو 14 نومبر کو ووٹنگ کا دن ہے، جہاں 64 ووٹس کی ضرورت ہے۔ PTAP اور PTI نے مخالفت کا اعلان کیا، کہتے ہوئے کہ یہ صوبائی حقوق اور عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔






