
اسلام آباد (16 دسمبر 2025، رات 9:53) پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شوکت یوسفزئی نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے موجودہ حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ملک کا قرض ماضی کے مقابلے میں دگنا ہو چکا ہے، مگر عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام اور معاشی مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے سوچنا چاہیے، سیاست ضرور ہو مگر کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ شوکت یوسفزئی نے سانحہ اے پی ایس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ مشکل وقت شہید بچوں کے والدین کے درمیان تھا، اللہ ایسا دن دوبارہ نہ دکھائے، اس وقت قوم متحد ہوئی اور دہشت گردی کو کافی حد تک ختم کیا، آج بھی سیاسی مشکلات ہیں مگر انتقام کی سیاست سے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے پہلے اور اب بھی ن لیگ کی حکومت ہے، مگر قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اور عوام کی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے۔
دوسری جانب مرکزی رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر نے کہا کہ بارڈر پر سنگین چیلنجز کی وجہ سے ہمارا کاروبار بند ہو گیا ہے اور معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں صحیح معنوں میں جمہوریت کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد چاہتے ہیں، جس میں حزب اختلاف کی تمام جماعتیں، سول سوسائٹی، وکلا برادری اور میڈیا کو دعوت دی جائے گی۔ اسد قیصر نے بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا آفتاب شیرپاؤ نے دعوت قبول کر لی ہے اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے 18ویں ترمیم پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارلیمنٹ کی مشترکہ کاوش تھی جس سے صوبوں کو اختیارات ملے، اب این ایف سی میں تبدیلیاں اور نئے صوبوں کی باتیں ہو رہی ہیں، یہ حساس معاملات ہیں، تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے، ورنہ ملکی مفاد کو نقصان پہنچے گا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کے یہ بیانات موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال پر حزب اختلاف کی تشویش کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں قرضوں کا بوجھ، بارڈر مسائل اور سیاسی انتقام کی سیاست کو ملک کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔






