مولانا فضل الرحمان کا سخت بیان؛ مساجد و مدارس کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں، حکمرانوں کی باطل قوت کے سامنے حق کی آواز کھڑی ہوگی

لاہور (11 جنوری 2026) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جامعہ اشرفیہ لاہور میں دستار بندی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مساجد اور مدارس کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب حکمرانوں کی باطل قوت حرکت میں آتی ہے تو نئی شکل پیدا ہوتی ہے، اور اس کے مقابلے میں جو آواز کھڑی ہوگی وہی حق کی آواز ہوگی۔ ہمارا کام اور مقصد بزرگوں کے نصب العین کو ہمیشہ زندہ رکھنا ہے۔

مولانا نے حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفی نوراللہ مرقدہ کی دینی، علمی اور ملی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے ساری زندگی اسلام کی اشاعت، مدارس کی سرپرستی اور علماء کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں گزاری۔ وہ اتحاد و وحدت کی علامت تھے، اور جامعہ اشرفیہ کا اس حوالے سے اہم کردار رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام اعتدال کا مذہب ہے، ورنہ افراط و تفریط پیدا ہو جائے گی۔ حضور ﷺ معلم بھی ہیں اور مربی بھی، تعلیم اور تربیت نبوت کا حصہ ہیں۔ ہمارے مدارس میں ادب کی تعلیم دی جاتی ہے جو دنیا کی کسی درسگاہ میں نہیں ملتی۔ آج نوجوانوں کو اسلاف سے توڑا جا رہا ہے اور انہیں بزرگوں سے رشتہ توڑنے کا درس دیا جا رہا ہے۔ دین کی بقا آسائشوں میں نہیں، آزمائشوں سے گزرنے میں ہے۔

تقریب میں صدر وفاق المدارس العربیہ مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ اسلام اعتدال کا مذہب ہے، یہ اس کا امتیاز ہے۔ دینی مدارس کو لاوارث نہ سمجھا جائے۔ تعلیم کا مقصد صرف پیسہ کمانا نہیں ہونا چاہیے، ورنہ زیادہ بولی لگانے والے کے پیچھے چلا جائے گا۔ دینی مدارس اسلام کی اشاعت کا بہترین ذریعہ ہیں۔ اتفاق خوشامد میں اور اختلاف دشمنی میں تبدیل نہ ہو، یہ توازن اسلام کا مزاج ہے۔

قاری محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ دینی مدارس کی خودمختاری پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ آج دینی مدارس کا جال پاکستان کے طول و عرض میں پھیل چکا ہے، جہاں دنیاوی تعلیم کے لیے لوگ بیرون ملک جاتے ہیں، مگر دینی تعلیم کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ مدارس کے ذرائع آمدن پر سوال اٹھایا جاتا ہے، مگر اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

یہ تقریب اور بیانات دینی مدارس کے تحفظ اور ان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے اہم ہیں، جہاں مولانا فضل الرحمان نے مساجد و مدارس کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا واضح اعلان کیا ہے۔