
لاہور (17 دسمبر 2025) ملک بھر میں میٹرک کی سطح پر تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلی کی تجویز سامنے آ گئی ہے، جس کے تحت دو نئے گروپس “ٹیکنیکل” اور “زراعت” متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد طلبہ کو روایتی سائنس، آرٹس اور کمپیوٹر سائنس کے علاوہ پیشہ ورانہ اور متبادل تعلیمی راستے فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اپنی دلچسپی اور ملک کی ضروریات کے مطابق کیریئر کا انتخاب کر سکیں۔ انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) نے اس اہم معاملے پر مشاورت کے لیے 23 دسمبر کو اسلام آباد میں مشاورتی اجلاس طلب کر لیا ہے، جہاں میٹرک کی سطح پر مضامین کی نئی گروہ بندی، متبادل تعلیمی راستوں اور اعلیٰ تعلیم میں داخلے کے امکانات پر تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں انٹرمیڈیٹ کے پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ گروپس میں داخلے کی اہلیت سے متعلق امور بھی زیر بحث آئیں گے، خاص طور پر میٹرک ٹیکنیکل اور زراعت گروپس سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز میں داخلوں کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ متبادل مضامین کی مساوات، غیر ملکی تعلیمی اسناد کی مساوات اور جنرل و ووکیشنل تعلیم سے متعلق نکات بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تعلیمی اصلاحات کو مؤثر بنانے کے لیے قومی سطح پر ایک ورکنگ گروپ قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جو نئے گروپس کے نصاب، امتحانات اور کیریئر مواقع کو حتمی شکل دے گا۔
یہ اقدام ملک میں ووکیشنل اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کو فروغ دینے کی طرف ایک اہم قدم ہے، جو نوجوانوں کو جلد روزگار کے قابل بنائے گا اور زراعت جیسے اہم شعبے میں ہنرمند افرادی قوت فراہم کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی روایتی تعلیمی دباؤ کو کم کرے گی اور طلبہ کو عملی زندگی کے لیے بہتر تیار کرے گی۔ اجلاس کے نتائج کا تمام تعلیمی بورڈز اور صوبائی حکومتوں کو انتظار ہے۔






