نیتن یاہو کی سلامتی پر اب بھی شبہات؛ کافی شاپ والی ویڈیو اور بیٹے یائر کے سوشل میڈیا خاموشی سے افواہوں کو ہوا

تہران/نیویارک/تل ابیب (16 مارچ 2026)
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی سلامتی اور زندہ ہونے کے بارے میں پھیلنے والی افواہوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک بار پھر سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نیتن یاہو زندہ ہیں تو ان کا پیچھا کر کے انہیں ضرور قتل کر دیا جائے گا۔

پاسداران انقلاب کا بیان
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پر جاری بیان میں کہا گیا کہ صہیونی مجرم وزیراعظم کے انجام کے بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں۔ ممکن ہے کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ مارے گئے ہوں یا مقبوضہ علاقوں سے فرار ہو گئے ہوں۔ اگر وہ زندہ ہیں تو ایران پوری قوت کے ساتھ ان کا پیچھا کرے گا اور انہیں ڈھونڈ کر مار ڈالے گا۔

کافی شاپ والی ویڈیو پر شبہات
گزشتہ روز اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے ایک مختصر ویڈیو جاری کی گئی تھی جس میں نیتن یاہو ایک کافی شاپ میں کافی کا کپ پکڑے بیٹھے نظر آ رہے ہیں اور اپنی انگلیاں گن رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں نیتن یاہو کے دائیں ہاتھ میں چھ انگلیاں نظر آ رہی ہیں، جس سے افواہوں کو مزید تقویت ملی ہے کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت (ڈیپ فیک) سے تیار کی گئی ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی اس ویڈیو کی صداقت پر شدید سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

بیٹے یائر نیتن یاہو کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ
نیتن یاہو کے بیٹے یائر نیتن یاہو کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے بھی 9 مارچ 2026 کے بعد کوئی پوسٹ نہیں کی گئی ہے۔ ہندوستان ٹائمز سمیت کئی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خاموشی خاندان میں پیش آنے والے کسی افسوسناک واقعے کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔

ایرانی قونصل جنرل کراچی کا بیان
کراچی میں ایران کے قونصل جنرل اکبر عیسی زادے نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے ایران پر حملہ کیا، جس میں 168 معصوم بچے شہید ہوئے۔ ایران اپنا دفاع کر رہا ہے اور جہاں جہاں امریکہ اور اسرائیل کے اثاثے ہیں، انہیں نشانہ بنانا اپنا حق سمجھتا ہے۔

عالمی ردعمل
امریکی سیاسی تجزیہ کار کینڈس اووینز نے بھی کہا کہ نیتن یاہو کی صحت کے بارے میں کچھ نہ کچھ چھپایا جا رہا ہے اور حکام پر خاموش رہنے کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکی حکومت اس معاملے پر براہ راست وضاحت دے۔

اسرائیلی حکومت نے نیتن یاہو کی موت کی خبروں کو جعلی قرار دے کر مسترد کیا ہے، مگر ویڈیو اور سوشل میڈیا خاموشی کی وجہ سے افواہیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ صورتحال ابھی بھی غیر یقینی ہے اور عالمی میڈیا میں بحث جاری ہے۔