
خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پاکستان کے وسیع تر مفاد کو صوبائی اختلافات کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے مستقبل کے لئے کالا باغ ڈیم جیسے منصوبے پر سب کو اعتماد میں لے کر کام کیا جائے گا۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ نے صوبے میں آبی گزرگاہوں اور نالوں پر قائم تجاوزات کے خاتمے کے لئے بھی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ پیر کے روز ایک ویڈیو لنک اجلاس میں بارشوں اور حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری ریلیف اور بحالی کے کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مشیر خزانہ، چیف سیکرٹری، متعلقہ حکام اور متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے شرکت کی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ جاں بحق ہونے والے 411 افراد میں سے 352 کے ورثاء کو معاوضے کی ادائیگی مکمل ہو چکی ہے جبکہ زخمیوں اور متاثرہ گھروں کے مالکان کو بھی بڑی حد تک مالی معاونت فراہم کر دی گئی ہے۔ اب تک متاثرہ خاندانوں کو کروڑوں روپے کے معاوضے اور ہزاروں فوڈ پیکیجز تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ باقی ماندہ معاوضے فوری طور پر ادا کیے جائیں اور اس کے فوراً بعد بحالی کے کام تیزی سے شروع کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے ڈپٹی کمشنرز خود نگرانی کریں اور دریاؤں کی ڈی سلٹنگ کے لئے پچھلے 40 سال کا ڈیٹا سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کی جائے۔
علی امین گنڈاپور نے تجاوزات کے خاتمے کے لئے بلا امتیاز کارروائی کرنے اور متاثرہ علاقوں میں صحت و تعلیم کی سہولیات بحال کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری انتظامیہ نے ایمرجنسی صورتحال میں جس طرح فوری ردعمل اور متاثرین کو ریلیف فراہم کیا، وہ ہماری بہتر حکمرانی کا واضح ثبوت ہے۔






