
اسلام آباد (9 جنوری 2026) وفاقی آئینی عدالت نے پرائیویٹ اداروں کے ملازمین کو اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کے تحت پنشن کا حق دار قرار دے دیا ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا، اور جسٹس حسن اظہر رضوی نے تحریری حکم نامہ جاری کیا۔ عدالت نے ای او بی آئی کی جانب سے دائر اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے 2024 اور 2025 کے فیصلوں کو برقرار رکھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ جو ملازمین 15 سال سے کم مگر ساڑھے 14 سال یا اس سے زائد سروس مکمل کر چکے ہیں، انہیں پنشن کا حق ملے گا۔ سروس کا 6 ماہ یا اس سے زائد عرصہ ایک پورا سال تصور کیا جائے گا، اور پنشن کے معاملے میں راؤنڈنگ آف کا اصول لاگو ہوگا۔ عدالت نے فلاحی قوانین کا مقصد عوام کو ریلیف دینا قرار دیا، اور ان کی سخت تشریح کے ذریعے ملازمین کو پنشن سے محروم کرنے کو سراسر ناانصافی کہا۔ ای او بی آئی کا 2022 کا سرکلر ملازمین کے قانونی حق کو متاثر نہیں کر سکتا۔
عدالت نے حکم دیا کہ ای او بی آئی تمام متعلقہ درخواست گزاروں کو بلا تاخیر ماہانہ پنشن کی ادائیگی یقینی بنائے۔ یہ فیصلہ پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین کے لیے بڑی ریلیف ہے، جو پنشن کے حق سے محروم تھے۔






