
جرنل آف ہیلتھ ڈیٹا سائنس میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق نے نیند کی عادات پر روشنی ڈال دی ہے، جس کے مطابق سونے کا کوئی مقررہ وقت نہ ہونا، کم یا زیادہ سونے کی نسبت صحت کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اس مطالعے میں تقریباً 90 ہزار بالغ افراد کو شامل کیا گیا، جنہیں فٹنس ٹریکرز پہنائے گئے تاکہ ان کی نیند کی عادات کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ اس کے بعد ان کی صحت کو سات سال سے زائد عرصے تک ٹریک کیا گیا، جس سے حیران کن نتائج سامنے آئے۔
تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ اگر سونے کا کوئی تسلسل یا شیڈول نہ ہو تو 172 امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص ہفتے میں تین راتوں تک مختلف اوقات میں سوتا ہے تو جسمانی کمزوری کا خطرہ تین گنا تک بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح پارکنسنز جیسے امراض کا امکان 37 فیصد، ذیابیطس ٹائپ ٹو کا 36 فیصد اور گردوں کے فیل ہونے کا 22 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ نیند کا شیڈول اپنانے سے 192 امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ 20 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
مزید برآں، تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ بے ترتیب نیند خون کے سفید خلیات اور دیگر پروٹینز کی مقدار میں اضافہ کرتی ہے، جو دائمی سوزش کا باعث بنتی ہے اور مجموعی صحت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ تاہم، محققین نے تسلیم کیا ہے کہ یہ مطالعہ کچھ حد تک محدود ہے کیونکہ اس میں صرف ایک ہفتے کی نیند کے ڈیٹا کا استعمال کیا گیا، اور نتائج کی مزید تصدیق کے لیے وسیع تحقیق کی ضرورت ہے۔ یہ دریافت صحت کے شعبے میں نیند کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے، اور ماہرین کیسے لوگوں کو باقاعدہ سونے کی ترغیب دیں گے۔






