ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کے تیل پر قبضے کا منصوبہ؟ خارگ جزیرے پر زمینی فوجیں اتارنے پر غور، امریکی اتحادی پیچھے ہٹے

واشنگٹن (16 مارچ 2026)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے سب سے بڑے تیل ٹرمینل والے جزیرے خارگ پر قبضہ کرنے کے لیے امریکی زمینی فوجیں اتارنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے Axios نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ اقدام ایران کی خام تیل برآمدات کا تقریباً 90 فیصد کنٹرول کرنے کے لیے ہے۔

ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں کا موقف
امریکی سینیٹر لنڈزی گراہم (جو ٹرمپ کے قریبی مشیروں میں شمار ہوتے ہیں) نے کہا ہے کہ انہوں نے حملوں کے دوران ایرانی تیل کی تنصیبات کو “بچانے” کا مشورہ دیا تھا۔ صدر ٹرمپ خود بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ حملوں میں یقینی بنایا جائے کہ ایرانی تیل کی تنصیبات کو نقصان نہ پہنچے۔

ماہرین کا تجزیہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی وینزویلا میں تیل کے ذخائر پر قبضے کے بعد ایران کے تیل پر امریکی تسلط کے منصوبے کا حصہ ہے۔ ٹرمپ اس منصوبے میں ایک مہرے کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں، جبکہ اسرائیل اور نیتن یاہو 40 سال پرانے منصوبے کو پورا کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ ہیں۔

امریکی اتحادیوں کا رویہ

  • یورپی اتحادی بھاری جنگی اخراجات برداشت کرنے سے گریزاں ہیں۔
  • خلیجی ممالک (متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین وغیرہ) بھی مزید پیسے خرچ کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔
  • عراق، افغانستان اور لیبیا کی طویل جنگوں نے یورپ میں مہاجرین کا بحران پیدا کیا، جس کے باعث یورپی ممالک اب کسی بڑی جنگ میں شامل ہونے سے ڈر رہے ہیں۔
  • ٹرمپ کا توہین آمیز رویہ، نیٹو اور یورپی یونین پر تنقید، اور جنوبی کوریا کی کمپنی ہنڈائی کے کوریائی انجینئرز کی گرفتاری نے اتحادیوں کو مزید دور کر دیا ہے۔

عوامی رائے اور ممکنہ ردعمل
امریکی عوامی جائزوں کے مطابق 60 فیصد سے زیادہ امریکی جنگ کے خلاف ہیں۔ ایران میں زمینی جنگ کے لیے فوج اتارنے کی صورت میں پورے امریکہ سے شدید ردعمل متوقع ہے، جو ماضی سے مختلف اور شدید تر ہو سکتا ہے۔

خلیجی ممالک کی صورتحال
خلیجی ممالک کو دہائیوں سے محفوظ ترین سمجھا جاتا تھا، جہاں دنیا بھر کے سرمایہ کار، حکمران اور مشہور شخصیات اپنے خاندان اور دولت کو محفوظ سمجھتے تھے۔ مگر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور ایران کی جوابی کارروائیوں نے نہ صرف تنصیبات کو نقصان پہنچایا بلکہ ان کی ساکھ کو بھی شدید دھچکا لگایا ہے۔

یہ صورتحال خطے میں امریکی پالیسی کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے عزائم واضح ہیں کہ وہ ایران کے وسیع تیل کے ذخائر پر قبضہ چاہتے ہیں، مگر اتحادیوں کی عدم دلچسپی اور عوامی مخالفت اسے مشکل بنا رہی ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا ٹرمپ زمینی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہیں یا مذاکرات کی طرف مائل ہوتے ہیں۔