ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تمام مذاکرات منسوخ کر دیے؛ فوجی کارروائی کے آپشنز پر غور، امریکی عوام سے خطاب متوقع

واشنگٹن (13 جنوری 2026) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے تمام مذاکراتی اجلاس فوری طور پر منسوخ کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ ایران میں جاری مظاہروں اور ایرانی حکومت کے مظاہرین پر کریک ڈاؤن کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایرانی عوام کو براہ راست پیغام دیا کہ “احتجاج جاری رکھو، ملکی اداروں پر قبضہ سنبھال لو، مدد راستے میں ہے”۔ انہوں نے ایرانی حکام کو “قاتل اور ظالم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جلد اپنے جرائم کی سزا بھگتیں گے۔

امریکی انتظامیہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سمیت مختلف آپشنز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ٹرمپ نے فلوریڈا سے واشنگٹن کے سفر کے دوران طیارے میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایرانی اپوزیشن لیڈروں سے رابطہ ہے اور ایران میں انٹرنیٹ بحالی کے لیے ایلون مسک سے بات کریں گے۔ ایران نے جوہری معاہدے پر بات کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا، مگر اب مذاکرات ختم کر دیے گئے ہیں۔

امریکا نے قطر میں نیا میزائل دفاعی نظام تعینات کر کے خطے میں اپنی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے حکومت کے حق میں ریلیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ایرانی قوم مضبوط اور باخبر ہے، دشمنوں کی سازشیں ناکام ہو چکی ہیں۔ انہوں نے امریکہ کو خبردار کیا کہ اپنے فریبی اقدامات روکے اور کرائے کے ایجنٹوں پر بھروسہ چھوڑ دے۔

خطے میں تناؤ عروج پر ہے، اور ٹرمپ کا امریکی عوام سے متوقع خطاب اس صورتحال کو مزید واضح کر سکتا ہے