
واشنگٹن (9 جنوری 2026) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں انتہائی جارحانہ بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس دنیا کے تمام ممالک پر امریکی فوجی کارروائی کا اختیار ہے، اور وہ کسی عالمی قانون کو نہیں مانتے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کے فیصلے بین الاقوامی قوانین سے محدود نہیں، بلکہ امریکا کی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے وہ کسی بھی ملک میں آزادانہ کارروائی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “میری اپنی اخلاقیات اور میرا اپنا فیصلہ ہی مجھے روکتا ہے”۔
ٹرمپ نے طاقتور اقدامات اور فوجی کارروائیوں کو امریکا کے عالمی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ قرار دیا اور گرین لینڈ اور وینزویلا کے معاملات کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ امریکی طاقت سے ملک کے مفادات کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون پر عمل کو “ضروری لگنے” پر منحصر قرار دیا اور اس کی تعریف پر سوال اٹھایا۔ روس کے ساتھ جوہری معاہدے کے خاتمے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ “ہونے دیں”، اور چین کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین تائیوان کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا۔
یہ بیان عالمی سطح پر شدید تنقید کا باعث بن رہا ہے، کیونکہ یہ امریکی خارجہ پالیسی کی جارحانہ سمت اور بین الاقوامی قوانین کی بالادستی کو چیلنج کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے جنوبی ایشیا سمیت عالمی تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔






