
ملک میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے اینٹی بائیوٹک، شوگر اور دیگر روزمرہ استعمال کی ادویات کی قیمتیں مزید مہنگی کر دی ہیں۔ دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ 1076 روپے میں دستیاب شوگر کی دوا اینوسیٹا پلس اب 1255 روپے میں ملے گی، اینٹی بائیوٹک ایزومیکس کے 10 کیپسول کا پیکٹ 795 روپے تک پہنچ گیا، جبکہ اینا فورٹان پلس ٹیبلٹ کی قیمت بھی 950 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ، زخموں کے علاج میں استعمال ہونے والی بیٹنوویٹ کریم کی قیمت 164 روپے سے بڑھا کر 180 روپے کر دی گئی ہے، بسلری ٹیبلٹ کی قیمت 488 سے 490 روپے ہو گئی، اور نزلہ و کھانسی کے شربت کی قیمت بھی 80 روپے سے 200 روپے تک جا پہنچی ہے۔
ادویات کی قلت اور مہنگائی کے حوالے سے حال ہی میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے ملک بھر میں جان بچانے والی اور ضروری ادویات کی شدید کمی پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ایسوسی ایشن کا دعویٰ تھا کہ کم از کم 80 اہم ادویات مارکیٹ میں دستیاب نہیں، جن میں سے 25 کی کوئی متبادل دوا بھی موجود نہیں۔ ان میں ذیابیطس، کینسر، الزائمر، پارکنسن، امراضِ قلب اور نفسیاتی امراض کے علاج کی ادویات شامل ہیں۔
ایسوسی ایشن کے جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومت سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا جائے تاکہ اس سنگین صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔ ادویات کی کمی کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ دائمی بیماریوں کے شکار مریضوں کے لیے جان لیوا خطرہ ہے، جس سے مریضوں کی صحت تیزی سے متاثر ہو رہی ہے۔ طویل اثر والی انسولین کی عدم دستیابی ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر کنٹرول نہ ہونے کا باعث بن رہی ہے، جبکہ پیوند کاری کے مریض ایک اہم اینٹی فنگل دوا کی کمی سے خطرناک فنگل انفیکشن کا شکار ہو رہے ہیں۔
پی ایم اے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایک نئی اور حقیقت پسندانہ دوا کی قیمتوں کی پالیسی منظور کی جائے، جو پیداواری لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ادویات کی تیاری کو ممکن بنا سکے۔ ادویات کی قلت کی ایک بڑی وجہ بلیک مارکیٹ کا بے قابو کاروبار ہے، جو غیر قانونی طور پر ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔






