
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم: “یہ کرپشن کسی کو نظر نہیں آتی”
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 3 سالوں میں پاکستان میں 5 ہزار ارب روپے کی کرپشن ہوئی، جو آئی ایم ایف کی قرض کی شرط پر جاری کردہ گورننس اینڈ کرپشن اسیسمنٹ رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ 186 صفحات کی یہ رپورٹ حکومت نے آئی ایم ایف کے حکم پر جاری کی، مگر اب تک اس پر کوئی پریس کانفرنس نہیں کی گئی۔
آئی ایم ایف رپورٹ کے اہم انکشافات:
- ایف بی آر، کسٹمز سمیت ادارے سیاسی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں
- کرپشن سے ٹیکس آمدن کم، سرکاری کمپنیاں خسارے میں
- پیچیدہ ریگولیشنز، عدالتوں میں زیر التوا مقدمات معیشت کو جکڑ رہے ہیں
- عدلیہ، احتساب اداروں میں عدم خودمختاری، ججز کی دیانت پر سوالات
- کرپشن سے حاصل دولت بیرون ملک منتقل، سرمایہ کاری متاثر
- بدعنوانی 70 سال سے پاکستان کی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ
رپورٹ میں کہا گیا کہ “بدعنوانی تمام سابقہ حکومتوں اور آمروں کی مشترکہ میراث ہے”، اور عدلیہ سمیت اہم اداروں پر قبضہ، عدم احتساب نے صورتحال مزید خراب کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 5 ہزار ارب کی کرپشن کا مطلب ہے کہ ہر پاکستانی پر تقریباً 22 لاکھ روپے کا قرضہ پڑ رہا ہے۔ یہ رقم صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر میں لگائی جاتی تو پاکستان کا چہرہ بدل جاتا۔






