پاکستان کی “گلا گھونٹ” اکانومی؛ پٹرول ٹیکس 760% بڑھا، تنخواہ دار طبقہ 206% بوجھ تلے، GDP 1.8% پر رکاوٹ

غیردستاویزی اکانومی 400 ارب ڈالر، 22% بے روزگاری؛ آئی ایم ایف رپورٹ اور حفیظ پاشا کی تنقید

سینئر صحافی کامران خان نے انکشاف کیا کہ پاکستان کی معیشت عام آدمی کی جیبوں کو گھونٹ رہی ہے:

  • پٹرول پر ٹیکس: 760% اضافہ (جی ایس ٹی، کسٹمز، ایکسائز ڈیوٹی)
  • تنخواہ دار طبقہ: 206% ٹیکس بوجھ
  • کاروباری طبقہ: 131% اضافی ٹیکس
  • غیردستاویزی اکانومی: 400 ارب ڈالر (ٹیکس سے آزاد)
  • GDP گروتھ: صرف 1.8% (3 سالوں میں)
  • بے روزگاری: تاریخی 22%

حفیظ پاشا: “آبادی 2.5% بڑھ رہی، فی کس آمدنی صفر، 2022-23 میں دیوالیہ ہونے سے بچے۔ آئی ایم ایف نے اشرافیہ کو کھل کر اشارہ دیا کہ رویہ بدلو!”

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ “غلط سمت” کی معیشت ہے جہاں ٹیکسوں سے قرضے بڑھتے ہیں مگر ترقی نہیں، اور آئی ایم ایف کی رپورٹ نے اداروں کی ناکامیوں (FBR سیاسی مداخلت) کو بے نقاب کر دیا۔