
لاہور (27 جنوری 2026) ملک کے معاشی اشاریوں میں بہتری کے دعوؤں کے برعکس پاکستان کا تجارتی خسارہ انتہائی تشویشناک سطح پر پہنچ گیا ہے۔ جولائی تا دسمبر 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے دیگر ممالک سے 34.5 ارب ڈالر کا سامان درآمد کیا، جبکہ صرف 15 ارب ڈالر کی پاکستانی مصنوعات برآمد کی گئیں۔ اس طرح 6 ماہ میں تجارتی خسارہ 35.52 فیصد اضافے کے ساتھ 19 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
اہم درآمدات اور اضافہ
- خوراک کی درآمدات میں 21.71% اضافہ؛ 4 ارب 63 کروڑ ڈالر کی درآمد (چینی، دودھ، مکھن، کریم، خشک میوے، چائے، مصالحے، سویا، پام آئل شامل)۔
- تقریباً 90 ارب روپے کی درآمدی چائے استعمال کی گئی۔
- اسمارٹ فونز کی درآمدات 1 ارب ڈالر (271 ارب روپے)؛ دسمبر میں 16 کروڑ ڈالر (45 ارب روپے) فون اور 35 کروڑ ڈالر (100 ارب روپے) موبائل سے متعلق سامان درآمد ہوا۔
- ٹیکسٹائل اور مشینری کی درآمد میں 16% اضافہ؛ 5 ارب ڈالر۔
- ٹرانسپورٹ سامان (کاریں، بسیں، ٹرک، پرزے، جہاز، کشتیاں) کی درآمد تقریباً 2 ارب ڈالر۔
- ربڑ مصنوعات، ٹائر، لکڑی اور پیپر بورڈ کی درآمد 60 کروڑ ڈالر سے زائد۔
- پیٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل 8 ارب ڈالر۔
- زرعی سامان (کھاد، کیڑے مار ادویات، کیمیکلز) 5.37 ارب ڈالر۔
- دھاتیں (سونے، لوہے، اسٹیل، ایلومینیم) 3.23 ارب ڈالر۔
- ٹیکسٹائل خام مال (خام کپاس، سنتھیٹک فائبر، سلک دھاگے) 3.37 ارب ڈالر۔
یہ اعداد و شمار وزیراعظم شہباز شریف کے دعوؤں کے برعکس ہیں، جنہوں نے ڈیووس میں کہا تھا کہ معاشی اشاریے تسلی بخش ہیں اور ملک ترقی کی اڑان بھرنے کے موڑ پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ درآمدات میں مسلسل اضافہ، برآمدات کی کمزوری اور روپے کی قدر میں کمی نے تجارتی خسارے کو ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا ہے۔ توانائی، خوراک اور موبائل فونز جیسے شعبوں میں درآمدات پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے، جو معیشت کے لیے سنگین چیلنج ہے۔
حکومت کو اب برآمدات بڑھانے، درآمدات کم کرنے اور مقامی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، ورنہ خسارہ مزید بڑھنے کا خطرہ ہے۔






