
لاہور (23 جنوری 2026) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے 3 روزہ بسنت فیسٹیول کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اعلیٰ سطح اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 6 فروری کی رات بسنت فیسٹیول کی لانچنگ ہوگی اور 7 فروری سے باقاعدہ تہوار شروع ہوگا۔ یہ تہوار 6، 7 اور 8 فروری کو منایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام کو خوشیاں لوٹانے آئی ہوں۔ عوام سے خوشی کا ماحول چھین کر لڑائی جھگڑوں اور فتنہ فساد کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ پنجاب دل والوں کا صوبہ ہے، مگر عوام کو تفریح سے دور کر دیا گیا۔ ہر مذہب کے تہوار (عید، ہولی، کرسمس، رمضان) منانے کا پورا حق ہے۔ بسنت 800 سال پرانا تہوار ہے جو موسم بہار کی آمد کی اطلاع دیتا ہے، اور یہ پنجاب کی ثقافت اور ورثہ ہے۔
سیفٹی پلان اور ضوابط
- لاہور کو ریڈ، ییلو اور گرین زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔
- 10 لاکھ بائیکوں پر مفت سیفٹی راڈ لگائے جائیں گے۔
- 2150 مینوفیکچررز، ٹریڈرز اور دکانداروں کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔
- بسنت سے پہلے پتنگ بازی پر 600 سے زائد مقدمات درج اور 641 گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔
- 27 ہزار سے زائد غیر قانونی پتنگیں برآمد کی گئیں۔
- 10 ہزار سے زائد ضمانتی بانڈ لیے گئے ہیں۔
- صرف کاٹن کے نو دھاگوں والی ڈور اور 35 انچ پتنگ / 40 انچ گڈا استعمال ہو سکے گا۔
- نائیلون/دھاتی ڈور، بڑی پتنگ اور گڈا ممنوع ہے۔
- ممنوعہ ڈور استعمال پر 5 سال قید اور 5 ملین روپے جرمانہ۔
- 6-8 فروری کے علاوہ پتنگ بازی پر جرمانہ اور قید۔
- غیر قانونی پتنگ بازی کے والدین/سرپرست ذمہ دار ہوں گے۔
- ریڈ زون میں سیفٹی راڈ کے بغیر بائیک پر 2000 روپے جرمانہ۔
- ممنوعہ پتنگ بازی کی اطلاع دینے پر انعام دیا جائے گا۔
ٹریفک اور سیفٹی انتظامات
- 100 ٹریفک کیمپ لگائے جائیں گے۔
- ستھرا پنجاب ورکرز کے علاوہ 4000 پولیس اہلکار ڈیوٹی کریں گے۔
- 500 بسیں، اورنج لائن، میٹرو بس، الیکٹرو بس اور فیڈر بس پر مفت سفر۔
- 6000 رکشے اور 60 ہزار رائیڈز 24 روٹس پر۔
- سیف سٹی اور کمشنر آفس میں 24/7 کنٹرول روم۔
- سی سی ٹی وی اور ڈرون سے مانیٹرنگ۔
- پولیس، فائر بریگیڈ، ایمبولینس اور ہیلتھ پلان فعال۔
وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ ڈس انفارمیشن یا افواہوں پر کان نہ دھریں۔ بسنت عوام کی تفریح اور خوشی کے لیے ہے، ذہن و دل کے ساتھ منائیں۔ یہ تہوار پنجاب کی ثقافت کو بحال کرنے اور عوام کو خوشحالی دینے کا علامتی قدم ہے۔






