پنجاب کے سرکاری نرسنگ کالجز میں مفت تعلیم ختم؛ طالبات کو اب ہزاروں روپے فیس اور ہاسٹل واجبات ادا کرنے پڑیں گے

لاہور (2 جنوری 2026) پنجاب حکومت نے سرکاری نرسنگ کالجز میں مفت تعلیم کا سلسلہ ختم کر دیا ہے۔ اب نرسنگ کی طالبات کو ہزاروں روپے فیس ادا کر کے تعلیم حاصل کرنا پڑے گی، جبکہ ماہانہ وظیفہ بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ہاسٹل میں رہائش کے واجبات بھی طالبات خود ادا کریں گی۔

حکومت نے نرسنگ کالجز میں داخلوں کی نئی پالیسی جاری کر دی ہے۔ ایف ایس سی میں کم از کم 50 فیصد نمبرز والی طالبات داخلے کی اہل ہوں گی، اور پنجاب کا ڈومیسائل لازمی ہوگا۔ شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال کے نرسنگ کالج میں صرف مرد طلبہ داخل ہوں گے۔ سرکاری کالجز میں کل 3100 سیٹیں ہیں، جن میں مارننگ شفٹ کے لیے 3000 اور ایوننگ شفٹ کے لیے باقی مختص کی گئی ہیں۔ ٹیچنگ ہسپتالوں سے منسلک کالجز میں 100-100 اور ڈسٹرکٹ ہسپتالوں سے منسلک کالجز میں 50-50 سیٹیں دونوں شفٹوں کے لیے رکھی گئی ہیں۔

یہ فیصلہ نرسنگ کی تعلیم حاصل کرنے والی غریب طالبات کے لیے بڑا دھچکا ہے، جو پہلے مفت تعلیم اور وظیفے کی سہولت سے فائدہ اٹھا رہی تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے نرسنگ کے شعبے میں داخلوں کی تعداد کم ہو سکتی ہے اور صحت کے شعبے پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔