پی آئی اے کی نجکاری پر سینئر رہنماؤں کی سخت تنقید؛ “صرف پرزہ جات 10 ارب روپے، جہاز 100 ارب کے، منافع بخش ادارہ کوڑیوں کے بھاؤ بیچا جا رہا ہے”

لاہور (25 دسمبر 2025) پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما چوہدری منظور احمد نے پی آئی اے کی نجکاری پر حکومت پر شدید تنقید کی اور انکشاف کیا کہ “پی آئی اے کے صرف پرزہ جات کی قیمت 10 ارب روپے ہے”۔ انہوں نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے نے پچھلے سال 26 ارب روپے کا منافع کمایا، جب ادارہ منافع بخش ہو گیا تو پھر کیوں بیچا جا رہا ہے؟ پی آئی اے کے پاس 30 جہاز ہیں جن میں 19 آپریشنل ہیں جن کی مالیت 100 ارب روپے ہے، 64 روٹس ہیں جو آج مل ہی نہیں سکتے، 8 بلڈنگز (جن میں ایک بلیو ایریا میں ہے) اور 20 ارب روپے کا پراویڈنٹ فنڈ موجود ہے۔ چوہدری منظور احمد نے سوال اٹھایا کہ “ایسے منافع بخش ادارے کو کیوں بیچا جا رہا ہے؟”

دوسری جانب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے بھی پی آئی اے کی نجکاری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ ادارہ پاکستان کا فخر اور شاندار ادارہ تھا جو کئی بین الاقوامی ائیر لائنز کو سپورٹ کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے نااہلی، بدترین گورننس، سیاسی بھرتیوں اور غلط فیصلوں سے اسے تباہ کیا، وہی اب کوڑیوں کے بھاؤ بیچ کر جشن منا رہے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا کہ پی آئی اے کی تباہی کے ذمے داران کا تعین اور احتساب کیا جائے۔ انہوں نے نجکاری کمیشن کے ساتھ ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بنانے کی تجویز دی جو تمام کرداروں اور چہروں کا تعین کرے جنہوں نے قومی ادارے تباہ کر کے ہزاروں ارب کا نقصان پہنچایا۔

یہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب حکومت پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو تیز کر رہی ہے، اور سینئر رہنما اسے قومی مفاد کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔