
“Image Source: UrduPoint.com
کوہاٹ (14 دسمبر 2025، دوپہر 3:56) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کوہاٹ میں تحریک انصاف کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر حکمرانوں کو کھلا چیلنج دے دیا اور عمران خان کے پیغام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ “اس بار اگر اسلام آباد گئے تو یا کفن میں واپس آئیں گے یا کامیاب ہو کر آئیں گے”۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا جیل سے پیغام بھی آ چکا ہے کہ “آزادی یا موت”، اور ہم اس دفعہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
سہیل آفریدی نے محمود خان اچکزئی کو مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ “اچکزئی صاحب کے پاس مذاکرات یا احتجاج کا مکمل اختیار ہے، وہ جب اور جیسے بھی کال دیں، ہم پورا تعاون کریں گے اور ساتھ کھڑے ہوں گے”۔ انہوں نے مریم نواز پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ “جس نے لاہور کے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا اور جعلی طریقے سے پنجاب کی وزیراعلیٰ بنی، جو ‘کا’ کے اوپر ‘کی’ اور ‘کی’ کے اوپر ‘کے’ لکھتی ہے، وہ مجھے مشورے دے رہی ہے، میری توبہ! یہاں پر پالیسی عمران خان کی چلے گی، راج عمران خان کا ہوگا، وہ مقبول اور قبول ترین لیڈر ہیں، انہوں نے ہماری تربیت کی ہے، ہم ان کی ہی سنیں گے”۔
وزیراعلیٰ نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم میں 16 ہزار بھرتیاں کی گئیں اور پورے پاکستان کے میڈیا کو چیلنج دیا کہ “ایک بھی بھرتی میرٹ کے بغیر دکھا دیں تو میں فوری استعفیٰ دے دوں گا”۔ جلسہ میں ہزاروں کارکنوں نے نعرے بازی کی اور تحریک انصاف کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔
یہ جلسہ موجودہ سیاسی تناؤ کے تناظر میں اہم ہے، جہاں عمران خان کی رہائی اور “حقیقی آزادی” کے نعرے ایک بار پھر بلند ہو رہے ہیں۔






